کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 615
قیادت تو اس کو کبھی نہیں سونپی جائے گی۔ اس استثنا کی وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے اس کی توبہ میں کہیں نفاق کا شائبہ ہو چنانچہ اگر ایسی بات ہوگئی اور کسی اہم معاملے میں مسلمانوں کی قیادت بالخصوص جنگی قیادت اس کے ہاتھ میں چلی گئی تو وہ زمین کو فتنہ وفساد سے بھر دے گا، پُرسکون زندگی کا پیمانہ الٹ دے گا، اپنے جیسے منافقوں کو قریب بٹھائے گا اور سچے مومنوں کو دور بھگائے گا۔ اسلامی معاشرہ کو ایسے گھناؤنے معاشرہ میں تبدیل کر دے گا جس کی باگ ڈور جاہلیت کے نمائندوں کے ہاتھ میں ہوگی۔ پس دونوں باعظمت خلفائے راشدین کی یہ پاک باز سنت اسی مقصد سے وجود میں آئی کہ اس کے ذریعہ سے اسلامی معاشرہ کی قیادت ورہنمائی میں شرانگیزوں وفتنہ پردازوں کو گھسنے سے روکا جائے اور شاید یہ حکمت بھی پیش نظر رہی ہو کہ مرتدین میں سے جو لوگ اقتدار پر قابض ہونے اور قیادت کرنے کی نیت سے مرتد ہوتے ہیں انہیں ان کی نیتوں کے خلاف سزا دی جائے کہ اگرچہ وہ بظاہر توبہ کر لیں اور اسلام میں داخل ہو جائیں لیکن وہ اقتدار اور عوامی نمائندگی سے محروم ہی رہیں گے۔ گویا مرتدین اور ان سب سے لوگوں کے لیے جن کے دل میں یہ بات کھٹکے کہ اسلامی زندگی سے کٹ کر اسلام دشمنی کے ذریعہ سے قیادت وسرداری حاصل کرنی چاہیے یہ سزا ایک تہدید آمیز پیش بندی تھی۔[1] ۷: امیرالمومنین کی طرف سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام خط: جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حدود عراق سے متصل ’’شراف‘‘ میں پہنچنے ہی والے تھے تبھی آپ کے پاس سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا خط پہنچا اس میں آپ کو ہدایت دی گئی تھی کہ فارس کی طرف آگے بڑھو، خط کا مضمون یہ تھا: ’’اپنے ساتھ مسلم افواج کو لے کر شراف سے فارس کی طرف بڑھو، اللہ پر بھروسا کرو، اور اپنے تمام کاموں میں اسی سے مدد مانگو، جان لو تم ایک ایسی قوم سے لڑنے جا رہے ہو جو تعداد میں تم سے زیادہ ہے، اس کے ہتھیار تم سے بہتر ہیں وہ بڑی بہادر ہے اور ایک ایسے ملک میں داخل ہو رہے ہو جو اگرچہ سر سبز وشاداب ہے لیکن دریاؤں، نہروں، وادیوں اور دشوار گزار گھاٹیوں سے فصیل بند ہے۔ جب دشمن کی فوج یا اس کا کوئی سپاہی تم سے مقابل ہو تو اس کے حملہ کا انتظار کیے بغیر اس پر ٹوٹ پڑو، دشمن کے ساتھ کسی قسم کی گفتگو یا مناظرہ نہ کرو، وہ تمہیں دھوکا نہ دے دیں، کیونکہ وہ بہت دھوکا باز اور مکار قوم ہے، اس کا معاملہ تم سے مختلف ہے۔ تم اسی وقت کامیاب ہوگے جب پوری لگن اور ہمت سے اس کا مقابلہ کرو اور جب قادسیہ[2] پہنچو تو مسلح دستے اس کے راستوں پر منتشر ہو جائیں اور باقی لوگ پیچھے ہوں۔[3]تمہاری فوج (مغرب میں) صحرائے عرب اور (مشرق میں) آبادی کے درمیان کھلے میدان میں خیمہ زن ہو، پھر اپنی جگہ ڈٹے رہو، وہاں سے مٹ ہٹنا، جب دشمن دیکھے گا کہ تم نے اپنے شب خون حملوں سے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے تو وہ اپنا لاؤ لشکر لے کر تم پر زبردست حملہ کرے گا۔اس میں اس [1] الدور السیاسی للصفوۃ فی صدر الإسلام: ۴۲۹۔ [2] التاریخ الإسلامی: ۱۰/۳۷۵۔ [3] التاریخ الإسلامی: ۱۰/۳۷۵۔ [4] سنن الترمذی/ المناقب، باب: ۵۲ حدیث نمبر ۳۷۴۲۔