کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 612
ناجائز قبضہ نہ کیا جائے کیونکہ تم نے ان کی جان ومال کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور یہ ذمہ داری جو ایک آزمائش ہے تمہیں پوری کرنی ہے۔ جس طرح اپنے معاہدات سے عہدہ برآ ہونے کی ذمہ داری ذمیوں اور اہل معاہدہ کے لیے ایک آزمائش ہے، جب تک وہ اپنے معاہدات سے عہدہ برآ ہوتے رہیں تم ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، ان پر ظلم وستم کر کے دشمن پر فتح پانے کے طالب نہ ہو، جب دشمن کے علاقہ میں پہنچو تو تحقیق حال کے لیے مخبر بھیجو اور دشمن کے حالات سے پوری طرح باخبر رہو، تمہارے پاس مخبری کے لیے ایسے عرب یا مقامی لوگ ہوں جن کی نیک نیتی اور حق گوئی پر تمہیں پورا اعتماد ہو، کیونکہ عادتاً جھوٹے کی رپورٹ کا کچھ حصہ اگر صحیح بھی ہو تو اس سے تمہیں کچھ فائدہ نہ پہنچے گا اور دھوکے باز تمہارے خلاف مخبری کرے گا تمہارے حق میں نہیں۔ دشمن کے علاقہ کے قریب پہنچ کر ہراول اطلاعی دستوں میں اضافہ کرو اور دستے اپنے دشمن کے درمیان پھیلا دو۔ یہ دستے رسد اور فوجی ضرورت کی چیزیں دشمن تک نہ پہنچنے دیں اور ہر اول اطلاعی دستے دشمن کے فوجی راز دریافت کریں اور فوجی ہراول ان اطلاعی دستوں کے لیے ایسے لوگ منتخب کرو جو بڑے بہادر اور صائب رائے ہوں اور ان کو تیز رفتار گھوڑے دو اگر دشمن سے ان کی مڈبھیڑ ہو تو تمہاری رائے سے ان کو قوت ملے، دستوں میں ایسے لوگ ہوں جنہیں جہاد کی لگن ہو اور جو تلواروں کی چھاؤں میں پامردی سے ڈٹے رہیں ہراول اور فوجی دستوں کے انتخاب میں ذاتی خواہش کو دخل نہ دو، کیونکہ ایسا کرنے سے تمہاری مہم کو جو نقصان پہنچے گا اور تمہاری لیاقت پر جو حرف آئے گا وہ اس فائدہ سے کہیں زیادہ ہو گا جو مقربین کے ساتھ رعایت کرنے سے ممکن ہے۔ رسالے اور دستے ایسی جگہ نہ بھیجو جہاں ان کے شکست کھانے، نقصان اٹھانے یا تباہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ جب دشمن تمہارے سامنے آئے تو اپنے بکھرے ہوئے فوجی دستے اور رسالے قریب بلا لو اور اپنی قوت و تدبیر سے کام لینے کے لیے تیار ہو جاؤ، جب تک دشمن خود حملہ آور نہ ہو لڑنے میں جلدی نہ کرو، تاکہ تم اس کی فوجی کمزوریوں سے واقف ہو سکو اور اپنے گردو پیش سے مقامی باشندوں کی طرح واقف ہو جاؤ۔ یہ واقفیت حاصل کر کے تم ایسی بصیرت سے لڑ سکو گے جس طرح دشمن خود لڑنے پر قادر ہو گا۔ اپنی فوج پر پہرے دار بھی مقرر کرو اور حتی الامکان شب خون سے چوکنا رہو۔ اگر کوئی ایسا قیدی جسے امان نہ دی گئی ہو تمہارے پاس لایا جائے تو اسے قتل کر دو، تاکہ دشمن کے دل میں ڈر بیٹھ جائے اللہ تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نگہبان ہے۔ وہی دشمن پر تمہاری فتح کا ذمہ دار ہے۔ واللّٰہ المستعان[1] سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا یہ ایک عظیم پیغام ہے جو پوری انسانیت کے نام ہے اور نہایت اعلیٰ و نفع بخش نصیحتوں پر مشتمل ہے۔ یہ پیغام عظمت فاروقی کے اہم گوشے کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ یہ کہ جنگی تنظیم ومنصوبہ سازی میں آپ کو بہت مہارت تھی اور تمام پیغامات، نصائح اور ہدایات میں آپ کو توفیقِ الٰہی حاصل تھی۔[2]آپ کے اس پیغام سے چند اہم رہنمایانہ اصول ہمارے سامنے آتے ہیں: [1] تاریخ الطبری: ۴/۳۱۳۔