کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 611
دھمکی دے کر جس طرح نعمان بن منذر نے بکر بن وائل سے سودے بازی کی تھی اسی طرح ان سے سودے بازی کی۔ جب معنی رضی اللہ عنہ کو دشمن کی اس نقل وحرکت کا علم ہوا تو راتوں رات ذی قار سے ایک سریہ لے کر وہاں پہنچ گئے اور قابوس اور اس کے ساتھیوں کو چت کر دیا پھر ’’ذی قار‘‘ واپس لوٹ آئے۔[1] ۵: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عراق روانگی اور عمر رضی اللہ عنہ کی نصیحت: امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام یہ پیغام ملا کہ ’’زرود‘‘ سے کوچ کر کے عراق کی طرف آگے بڑھو اور اہل فارس سے فیصلہ کن جنگ کے لیے اب پوری تیاری کر لو، آپ کے پیغام کا موضوع یہ تھا: ’’حمد وصلاۃ کے بعد! میں تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو ہر حال میں اللہ کے تقویٰ کا حکم دیتا ہوں، اللہ کا تقویٰ ہی دشمن کے مقابلہ کی سب سے بہترین تیاری اور جنگ میں فتح یابی کے لیے سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو میرا حکم یہ ہے کہ تم اور تمہارے فوجی دشمن سے جتنا چوکنا رہیں اس سے زیادہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں، کیونکہ فوج کو دشمن سے اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا خود اپنے گناہوں سے پہنچتا ہے۔ مسلمانوں کی فتح کا راز یہ ہے کہ ان کا دشمن معاصی میں گرفتار ہے اگر ایسا نہ ہو تو دشمن پر ہمارا قابو نہ چل سکے، کیونکہ ہماری تعداد ان سے کم ہے، ہمارے ہتھیار ان کے ہتھیاروں سے گھٹیا ہیں، اگر معاصی میں ہم دشمن کے برابر ہوں تو وہ قوت میں ہم سے بڑھ جائیں گے اور اگر ہم اپنی اچھی صفات سے ان پر غلبہ نہ پا سکیں تو اپنی فوجی طاقت سے یقینا نہیں پا سکیں گے۔ یاد رہے تمہارے ساتھ اللہ کی طرف سے ایسے فرشتے مامور ہیں جو تمہارے چال چلن پر نظر رکھتے ہیں، انہیں تمہارے ہر عمل کا علم ہوتا ہے، ان سے غیرت کرو اور معاصی سے بچتے رہو۔ یہ نہ کہو کہ دشمن چونکہ ہم سے برا ہے اس لیے کبھی ہم پر فتح نہ پا سکے گا، کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی قوم پر اس سے بری قوم غالب آجاتی ہے۔ جس طرح جب بنو اسرائیل نے گناہوں سے اللہ کو ناراض کیا تو آگ کو پوجنے والے پارسی ان پر غالب آگئے اور ان کے گھروں کو تہ و بالا کر دیا۔ اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے، گناہوں سے بچنے کی اللہ سے دعا مانگو، جس طرح دشمن پر فتح پانے کی دعا مانگتے ہو۔ میں بھی اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے یہ دعا مانگتا ہوں۔ کوچ کے دوران فوج کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ اور انہیں اتنا نہ چلاؤ کہ تھک جائیں اور پر آرام جگہ ٹھہرنے سے انہیں نہ روکو تاکہ وہ جب دشمن سے مقابل ہوں تو ان کی توانائی بحال ہو، وہ ایک ایسے دشمن سے لڑنے جا رہے ہیں جو اپنے گھر میں ہے جس کے سپاہی اور جانور تازہ دم ہیں۔ دوران کوچ ہر جمعہ ایک دن اور ایک رات قیام کرو، تاکہ فوج سستا کر تازہ دم ہو جائے اور اپنے ہتھیار و سامان درست کر سکے، جن لوگوں سے تم نے معاہدہ کر لیا ہو یا جزیہ دے کر تمہاری پناہ میں آگئے ہوں ان کی بستیوں سے دور پڑاؤ ڈالو اور کسی کو ان کی بستیوں میں نہ جانے دو، سوائے اس شخص کے جس کی دیانت داری پر تمہیں بھروسا ہو، بستی والوں کی کسی چیز پر [1] تاریخ الطبری: ۴/۳۱۳۔ [2] القادسیۃ: أحمد کمال، ص: ۳۰۔ [3] تاریخ الطبری: ۴/ ۳۱۳۔ [4] التاریخ الإسلامی: ۱۰/۳۷۰،۳۷۱۔