کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 609
آخرت کے لیے تیاری کرنا عبرت حاصل کرنا ہے۔ ظالم سے دوسرے کا حق چھیننا اور حق دار تک اسے پہنچانا ہی زہد ہے۔ تم اس معاملہ میں کسی سے ظلم و زیادتی نہ کرنا، بقدر کفاف روزی پر قناعت کرنا۔ جسے کفاف کی روزی پر قناعت نہ ہو اسے کوئی چیز مال دار نہیں کر سکتی۔ میں تمہارے اور اللہ کے درمیان ہوں اور میرے اور اللہ کے درمیان اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اللہ نے مجھ پر لازم کر دیا ہے کہ تمہاری شکایات اس تک نہ جانے دوں، لہٰذا تم اپنی شکایات مجھ تک لایا کرو، جو خود نہ پہنچا سکے تو اسے بتا دے جو مجھ تک اسے پہنچا سکے، بلا روک ٹوک میں اس کا حق اسے دلاؤں گا۔‘‘[1] ۴: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عراق میں اور مثنی رضی اللہ عنہ کی وفات: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھے اور نجد کے ’’زرود‘‘[2] نامی ایک مقام پر خیمہ زن ہوئے۔ امیرالمومنین نے ان کے پاس مزید چار ہزار فوج بھیجی اور سعد رضی اللہ عنہ نے خود سات ہزار مجاہدین اسلام کو نجد سے جمع کر لیا تھا۔ ادھر مثنی بن حارثہ شیبانی رضی اللہ عنہ بارہ ہزار فوج لے کر عراق میں سعد رضی اللہ عنہ کے منتظر تھے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ زورد میں پڑاؤ ڈال کر اہل فارس سے فیصلہ کن جنگ کی تیاریوں میں لگ گئے اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکم کا انتظار کرنے لگے، عمر رضی اللہ عنہ نے اس جنگ کے لیے کافی اہتمام کیا تھا، آپ نے پوری اسلامی سلطنت سے تمام روساء، اصحاب الرائے، شرفاء، مردان جنگ، خطباء اور شعراء کو جمع کر کے ان چنندہ افراد کو اسلامی لشکر کے ساتھ بھیج دیا تھا۔[3] جس وقت سعد رضی اللہ عنہ اپنا لشکر لے کر زرود میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے انہی ایام میں مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ سخت بیمار پڑے اور اس سے جاں بر نہ ہو سکے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ معرکہ جسر میں ان کو جو کاری زخم لگا تھا وہی ناسور ہوگیا تھا۔ جب مثنی رضی اللہ عنہ کو احساس ہوا کہ اب میری موت قریب ہے اور ان کی تکلیف بڑھ گئی تو بشیر بن خصاصیہ کو اپنی فوج کا امیر بنا دیا اور اپنے بھائی مُعَنّٰی رضی اللہ عنہ کو بلوا کر انہیں وصیت فرمائی اور کہا کہ جلد ازجلد میری وصیت سعد رضی اللہ عنہ تک پہنچا دو اور پھر جان جان آفرین کے حوالے کر دی، اب وہ روشن چراغ بجھ چکا تھا اور چمکتا ہوا سورج غروب ہوگیا تھا جس نے فتوحات عراق کو روشنی اور حرارت سے بھر دیا تھا۔[4] مثنی رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو جو وصیت کی تھی وہ یہ تھی کہ ’’اپنے دشمنوں (ایرانیوں) سے اس وقت جنگ نہ کی جائے جب تک ان کی شیرازہ بندی ہو چکی ہو اور وہ آپس میں متحد ہوگئے ہوں، ان کے ملک میں گھس کر بھی لڑنا ان سے ٹھیک نہیں، بلکہ ان کی سرحدوں پر رہ کر ان کا مقابلہ کیا جائے جہاں سے عرب کی سر زمین عجم کی سر زمین کی نسبت زیادہ قریب ہو۔ پس اگر مسلمانوں [1] التاریخ الإسلامی: ۱۰/ ۳۶۴۔ [2] التاریخ الإسلامی: ۱۰/۳۶۵۔ [3] عراق کے راستے میں ایک وادی ہے۔ آج اسی جگہ مدینہ ائیر پورٹ بنا ہوا ہے۔