کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 599
’’دریا کی بلندی پر مثنی نے ایسا اہم معرکہ سر کیا جسے قبیلہ کا ایک آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔‘‘ کتیبۃ أفزعت بوقعتہا کسری، وکاد الإیوان ینفطر ’’ان کے چھوٹے سے فوجی دستہ نے اپنے حملہ سے کسریٰ کو ہلا دیا اور قریب تھا کہ اس کا ایوانِ حکومت زمیں بوس ہو جاتا۔‘‘ وشجع المسلمون إذ حذروا وفی صروت التجارب العبر ’’خوف وہراس کے موقع پر مسلمانوں نے دلیری کا مظاہرہ کیا اور سچ یہ ہے کہ گردش زمانہ کے تجربات میں عبرت وموعظت کی باتیں ہوا کرتی ہیں۔‘‘ سہل نہج السیر فاقتفروا آثارہ والأمور تقتفر[1] ’’اس (مثنی) نے فتوحات کے سیلاب کا راستہ کھول دیا، تو لوگ بھی اس کے نشان پر چل پڑے اور بہتر معاملات وہی ہوتے ہیں جو آثار ونتائج دیکھ کر انجام پائیں۔‘‘ مثنی رضی اللہ عنہ نے اپنے چھاپہ مار حملوں کا دائرہ شمالی عراق تک وسیع کیا اور شمال سے لے کر جنوب تک کئی حملے کیے۔ ’’کباث‘‘ پر اپنے چھاپہ مار حملہ آوروں کو روانہ کیا، وہاں کے سارے باشندے بنو تغلب سے تعلق رکھتے تھے، وہ لوگ چھاپہ ماروں کے حملوں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور پوری بستی خالی کردی، مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور پیچھے رہ جانے والوں کو ہر طرح دبوچا، اسی طرح صفین میں بھی قبیلہ تغلب ونمر پر اپنے چھاپہ مار دستوں کو بھیجا۔[2] معرکہ بویب کے بعد مثنی رضی اللہ عنہ ہی ان تمام حملوں کے میرکارواں رہے، ان دستوں کے مقدمہ پر حذیفہ بن محصن غلفانی اور میمنہ ومیسرہ پر نعمان بن عوف بن نعمان اور مطر شیبانی امیر مقرر تھے۔ آپ کے اس نوعیت کے حملوں میں ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ آپ کی فوج نے دیکھا کہ تکریت میں دشمن کی ایک جماعت پانی میں ڈوب رہی ہے اور حملہ آور حسب منشا جانوروں کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں، مال غنیمت کی اس قدر بہتات تھی کہ ایک سپاہی کو پانچ جانور، پانچ قیدی اور خمس مال حصہ میں ملا تھا۔ مثنی رضی اللہ عنہ وہ سب اموال غنیمت لے کر انبار والوں کے پاس لوٹ آئے اور فرات بن حیان اور عتیبی بن نہاس کو یہ حکم دے کر صفین روانہ کیا کہ وہاں پہنچ کر تغلب ونمر کے عرب قبیلوں پر چھاپہ مار حملہ کریں، پھر انبار کے باشندوں اور اپنے مقدمۃ الجیش کے سپاہیوں پر عمرو بن ابو سلمیٰ [1] الطریق إلی المدائن: ص ۴۵۷۔ [2] حرکۃ الفتح الإسلامی: شکری فیصل، ص: ۷۸۔ تاریخ الطبری: ۴/۲۹۹۔