کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 596
۵: شکست خوردہ فوجی دستوں کا تعاقب: اس معرکہ کی شان دار فتح کی خوشی نے مثنی رضی اللہ عنہ کو ان کے اصلی مقصد سے رکنے نہ دیا، بلکہ جنگ ختم ہوتے ہی مجاہدین کو شکست خوردہ فوج کا پیچھا کرنے کے لیے جوش دلایا اور مقام مسیب تک ان کا پیچھا کرنے کو کہا۔ چنانچہ مجاہدین نے شکست خوردہ فوج کی بچی کھچی ٹکڑی کا پیچھا کیا۔ پیچھا کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو معرکہ جسر میں شریک تھے۔ یہ لوگ آگے بڑھتے اور دشمن کے علاقوں پر چھاپہ مار حملے کرتے، اس طرح انہیں کافی مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا اور ’’ساباط‘‘ تک پہنچ کر پھر مثنی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس لوٹ آئے۔ معرکہ بویب کی فتح کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہ ہو گا کہ معرکہ جسر میں ہزیمت اٹھانے کے بعد مسلمان جس طرح مرعوب اور شکستہ دل ہوگئے تھے، اس کا اثر ان کے دلوں سے جاتا رہا، بلکہ اس معرکہ کی فتح یابی نے مسلمانوں کو پورے عراق پر فتح کا پرچم لہرانے کا موقع ملا۔ اس سے پہلے کے معرکوں میں وہ دریائے فرات سے آگے نہ جاتے تھے اور کبھی زیادہ آگے بڑھے بھی تو دریائے دجلہ وفرات کے درمیان رہے، لیکن معرکہ بویب کی فتح کے بعد دجلہ وفرات کے تمام علاقوں پر قابض ہوگئے اور ان دریاؤں میں بے خوف وخطر سیر کرتے اور انہیں پار کرتے، بویب کا یہ معرکہ شام کے معرکہ یرموک کے مشابہ ہے۔[1] بازاروں پر چھاپہ مار حملے: معرکہ بویب کے بعد مسلمانوں کے حالات مضبوط ہوگئے اور عراق کے سارے باشندے ان کے تابع ہوگئے۔ ادھر مثنی رضی اللہ عنہ مزید فوجی کارروائی کے لیے دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ قائدین کو تقسیم کیا، ہتھیاروں کو تیز کیا اور فارس وعرب کے اجتماعات ونفری ہجوم پر چھاپہ مار حملہ شروع کر دیا۔ خنافس نامی ایک بازار پر دھاوا بولا جہاں لوگ اپنی ضروریات کے سامان خریدنے آتے تھے، اور ربیعہ ومضر والے ان کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ آپ ان پر اچانک حملہ آور ہوئے اور پورے بازار حتیٰ کہ سبزیوں کا بھی صفایا کر دیا۔[2] پھر وہاں سے تیزی سے آگے بڑھے اور اسی دن صبح سویرے ’’انبار‘‘ کے جاگیردار کسانوں پر یہ شعر پڑھتے ہوئے حملہ کیا: صبحنا بالخنافس جمع بکر وحیا من قضاعۃ غیر میل ’’خنافس بازار میں ہم نے بکر کے ہجوم اور قضاعہ کے ایک قبیلے پر صبح سویرے سیدھے وار کیے۔‘‘ بفتیان الوغی من کل حی تباری فی الحوادث کل جیل ’’ہر قبیلے سے بہادر نوجوانوں کو لے کر، ہر گروہ لڑائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا چاہتا تھا۔‘‘ [1] الطریق إلی المدائن: ص ۴۴۰، تاریخ الطبری: ۴/۲۹۳۔ [2] الطریق إلی المدائن: ص ۴۴۷۔ [3] الطریق إلی المدائن: ص ۴۴۸۔ [4] التاریخ الإسلامی: ۱۰/ ۳۵۲، تاریخ الطبری: ۴/۲۹۲۔ [5] التاریخ الإسلامی: ۱۰/۳۵۲۔