کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 594
جناب مثنی رضی اللہ عنہ اگر ایک طرف اپنی فوج کے لیے محب ومہربان اور ان کے احوال کی خبر گیری کرنے والے تھے تو دوسری طرف جنگی احوال وظروف میں بصیرت مند اور تجربہ کار شخصیت کے مالک تھے۔ آج جدید فوجی اصطلاح میں جسے ضبط وربط کہا جاتا ہے اس کو اختیار کیا۔[1] چنانچہ جب آپ نے اپنی فوج کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ صف بندی توڑ کر آگے بڑھ نکلنا چاہتا ہے تو کہا: یہ کیوں ایسا کرتا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ معرکہ جسر میں یہ بھاگ گئے تھے، آج وہ اللہ کے راستہ میں سرفروشی کے لیے بے تاب ہیں۔ آپ نے نیزہ کی نوک چبھوتے ہوئے ان سے کہا: حماقت نہ کرو، اپنی جگہ پر کھڑے رہو، جب حریف سامنے آجائے تو اسے کسی اور کے لیے نہ چھوڑنا۔ انہوں نے کہا: ہاں، میرے لیے یہی مناسب ہے اور پھر صف میں جا کر کھڑے ہوگئے۔[2] مثنی رضی اللہ عنہ کے دل میں اپنے ساتھیوں کے لیے محبت ورحمت کے جو جذبات موجزن تھے بالکل اسی طرح کے جذبات ان کے لیے ان کے ساتھیوں کے دل میں بھی موجود تھے۔ چنانچہ آپ کے مجاہدین نے دوران معرکہ جو اشعار پڑھے تھے ان میں یہ چیز ہمیں بالکل واضح نظر آتی ہے، اعور الشمنی یہ اشعار پڑھ رہے تھے: ہاجت لأعور دار الحی احزانا واستبدلت بعد عبدالقیس حفانا ’’اعور کے لیے قبیلے والے غم وحزن سے بھر گئے اور عبد قیس کے بعد حفان کو امیر بنایا۔‘‘ وقد أرانا بہا والشمل مجتمع إذ با لنخیلۃ قتلی جند مہرانا ’’اس نے ہمیں اسے دکھایا حالانکہ فوج اکٹھی کھڑی تھی اور مہران کے لشکر کے مقتولین کھجور کے باغات میں گر رہے تھے۔‘‘ أزمان سار المثنی بالخیول لہم فقتل الزحف من فرس وجیلانا ’’وہ بیمار دل و کمزور لوگ ہیں، مثنی نے انہیں اپنے گھوڑوں سے روندا اور فارس وجبلان کی حملہ آور فوج کو بری طرح قتل کیا۔‘‘ سمالمہران والجیش الذی معہ حتی أبادہم مثنی ووحدانا ’’مہران اور اس کے ساتھ لڑنے والی فوج پر چڑھ دوڑے یہاں تک کہ انہیں دو دو اور ایک ایک کر کے ختم کیا۔‘‘ [1] تاریخ الطبری: ۴/۲۸۷، الطریق الی المدائن: ص ۴۴۶۔ [2] تاریخ الطبری: ۴/۲۸۷۔ [3] الطریق إلی المدائن: ص ۴۴۶۔ [4] الطریق إلی المدائن: ص ۴۴۶۔ [5] تاریخ الطبری: ۴/۲۹۱۔