کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 593
۳: مثنی رضی اللہ عنہ کو فوجی نفسیات کا علم ہونا: مثنی رضی اللہ عنہ کے بے نظیر جنگی کارناموں اور قائدانہ خوبیوں میں جہاں بہت ساری باتیں تھیں وہیں جنگ سے متعلق ایک اہم موضوع پر گہری بصیرت حاصل تھی، وہ یہ کہ آپ کو فوجی نفسیات کا علم تھا اور اس فن کے ماہر تھے کہ مجاہدین اسلام اور ہتھیار بند ساتھیوں کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے۔ فوجی کارروائی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں اور غازیان اسلام میں باہمی الفت و محبت کی روح دوڑ رہی ہے اور آپ ان کے لیے نہایت شفقت ومہربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اخلاص ووفا کا یہ منظر ایک دوسرے کے تئیں دونوں کی گفتگو میں صاف نظر آتا ہے۔ ہم اس کا مشاہدہ اس وقت کر سکتے ہیں جب آپ اپنے سیماب صفت گھوڑے پر سوار ہو کر ہر قبیلے کے علم کے پاس جاتے ہیں، انہیں جوش دلاتے ہیں، رہنمائیاں کرتے ہیں، ان کے جذبات واحساسات میں عزم وحوصلہ کی روح پھونکتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں: ’’اللہ کی قسم! آج کے دن مجھے وہی چیز خوش کر سکتی ہے جو تم سب کو خوش کر سکتی ہے۔‘‘[1] آپ کے سپاہی بھی جذبہ جہاد سے سرشار اسی طرح جواب دیتے ہیں۔ مؤرخین کا بیان ہے کہ ان کی محبت و تعلق خاطر کا یہ عالم تھا کہ کوئی سپاہی کسی قول وفعل میں آپ پر عیب نہیں لگاتا تھا۔[2] اور جب دیکھا کہ عجم کی افواج حملہ کر چکی ہیں اور ان کے فلک شگاف نعرے فضا میں گونج رہے ہیں تو فوراً بھانپ لیا کہ گھمسان کی جنگ میں اس کا کتنا اثر پڑنے والا ہے۔ خاص طور پر جب کہ معرکہ جسر میں ہزیمت کی یاد ابھی ذہنوں میں تازہ تھی۔ آپ نے آہستہ سے اطمینان بخش اور دلوں سے خوف وہراس کو دور کر دینے والا ایسا جملہ کہا جو دل موہ لینے کے قابل ہے، آپ نے کہا تھا: ’’جو شور وہنگامہ تم سن رہے ہو وہ بزدلانہ ہے، تم بلند آواز سے باتیں نہ کرو بلکہ سرگوشی کرتے ہوئے تدبیریں کرو۔‘‘[3] اسی طرح جب ان کے بھائی مسعود زخم خوردہ ہو کر زمین پر گر پڑے تو آپ نے جو بات کہی وہ تاریخ کے اوراق میں آب زر اور نورانی حروف سے تحریر کیے جانے کے قابل ہے۔ آپ نے کہا تھا: ’’اے مسلمانو! میرے بھائی کا قتل تمہیں ہراساں نہ کرے، تمہارے بہترین جانبازوں کی قربانیاں اسی طرح ہوتی ہیں۔‘‘[4] جناب مثنی رضی اللہ عنہ اپنے بھائی مسعود اور دیگر بعض شہداء کی نماز جنازہ پڑھانے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: ’’ان لوگوں کے بارے میں ایک بات سوچ کر میرا غم ہلکا ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ معرکہ بویب میں حاضر ہوئے، اس میں پیش پیش رہے، صبر وضبط سے کام لیا، آہ و فغاں نہیں کیا اور نہ بزدلی دکھائی حالانکہ جام شہادت نوش کرنا گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘[5] [1] تاریخ الطبری: ۴/۲۹۰۔ [2] التاریخ الإسلامی: ۱۰/ ۳۵۲۔ [3] تاریخ الطبری: ۴/۲۹۱۔ [4] التاریخ الإسلامی: ۱۰/۳۵۰۔ [5] التاریخ الإسلامی: ۱۰/۳۵۵۔