کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 592
ایک ہزار عجمیوں پر بھاری ہیں۔ اللہ نے ایرانیوں کا رعب زائل اور مکر باطل کر دیا ہے۔ تم ان کے نمائش، کثرت تعداد اور لمبے نیزوں سے مرعوب نہ ہونا، ان سہاروں سے محروم ہوتے ہی ان کی کوئی تدبیر نہ چلے گی اور وہ ان چاپویوں کی مثل ہو جائیں گے جنہیں تم جہاں چاہو ہانک کر لے جاؤ۔[1] مثنی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان بالکل برمحل اور وقت کے عین مناسب تھا، آپ نے ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں اپنی بہترین فوجی قیادت ومہارت کا مظاہرہ ایسے وقت میں کرایا تھا جب کہ عراقی جنگوں کی تاریخ میں ایرانیوں سے جنگ لڑنے کے لیے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شرکت کر رہی تھی۔ آپ نے نہایت مختصر انداز میں اس کے سامنے حالیہ جنگ کا آنکھوں دیکھا حال اور ماضی میں ایرانیوں کے ساتھ معرکوں کے تجربات کو ایک ساتھ بیان کر دیا۔[2] ۲: واپسی کا راستہ کاٹ دینے پر مثنی رضی اللہ عنہ کی ندامت: جنگ ختم ہو جانے کے بعد مثنی رضی اللہ عنہ نے پل پر قبضہ کرنے اور ایرانیوں کے بھاگنے کا راستہ بند کر دینے پر افسوس اور پشیمانی کا اظہار کیا اور کہا: میں نے ان سے پہلے پل پر قبضہ کر کے ان کا راستہ روکا تھا، یہ میری کمزوری تھی جس کی برائی سے اللہ نے بچایا، اس قسم کی حرکت اب میں کبھی نہ کروں گا اور تم بھی ہرگز ایسا نہ کرنا۔ لوگو! وہ میری غلطی تھی، جب تک دشمن کی تاب مقاومت جواب نہ دے جائے اسے اس طرح گھیرنا فوجی نقطہ نظر سے مناسب نہیں ہے۔[3] گویا انہوں نے بیان کے آخر میں اپنی فوجی کارروائی میں لغزش کا اعتراف کیا، آپ نے فوجی نگاہ بصیرت سے محسوس کر لیا کہ دشمن کو راہ فرار نہ دینا گویا اسے اپنے بالمقابل دفاعی جنگ پر دعوت دینا ہے، کیونکہ ان حالات میں جب انسان کو اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ اب اسے ہر حال میں مرنا ہی ہے تو اپنی جان کے دفاع میں پوری طاقت لگا دیتا ہے اور پھر اسے مات دینے کے لیے مد مقابل فوج کو بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ بہرحال یہ اللہ کا فضل خاص رہا کہ اس نے مثنی رضی اللہ عنہ کی جنگی لغزش کے برے اثرات سے مسلمانوں کو بچا لیا، انہیں عزم واستقلال عطا کیا اور ان کی طاقت و قوت دشمنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی، اسی طرح اس نے دشمنوں کے دلوں میں مسلمانوں کا اس قدر رعب ودبدبہ بٹھا دیا کہ ان میں اپنی جان کی طرف سے دفاع کرنے کی طاقت نہ رہی۔[4] بے شک فتح ونصرت اور کامیابی ونیک نامی کے اوج ثریا پر مقیم ہوتے ہوئے مثنی رضی اللہ عنہ کا اپنی لغزش کا اعتراف کرنا ان کی ایمانی قوت، پاک طینت اور ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینے کی واضح دلیل ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ عظیم اور سرکردہ افراد ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔[5] [1] الطریق إلی المدائن: ص ۴۳۳۔ ۴۳۴، تاریخ الطبری: ۴/ ۲۸۹۔ [2] التاریخ الإسلامی: ۱۰/۳۴۹، تاریخ الطبری: ۴/ ۲۸۹۔