کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 589
معرکہ بویب ۱۳ہجری: معرکہ جسر میں مسلمانوں کی شکست خوردگی کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور عراق میں باقی ماندہ اسلامی لشکر کو امدادی فوج دیتے ہوئے انہیں دشمن سے فوری مقابلہ کے لیے عراق روانہ کیا۔ اس میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہما اپنی قوم کے ساتھ اور حنظلہ بن ربیع رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا اور ہلال بن علقمہ رباب کو ایک جماعت کے ساتھ اور عبداللہ بن ذی سہمین قبیلہ خثعم کی ایک جماعت کے ساتھ شریک ہوئے۔ اسی طرح عمر بن ربعی بن حنظلہ اور ربعی بن عامر بن خالد رضی اللہ عنہما اپنے اپنے قبیلہ کے ساتھ مدد کے لیے حاضر ہوئے۔ آپ نے ان کو بھی امدادی فوج کی شکل میں عراق بھیجا۔ اس طرح عراق تک امدادی افواج کے قافلوں کا تانتا بندھ گیا، ٹھیک اسی وقت مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے بھی عراق کے مختلف علاقوں میں امراء وحکام کے نام پیغام بھیجا کہ وہ سب اپنے اپنے علاقوں سے غازیان اسلام کی جماعتیں بھیجیں۔ چنانچہ انہوں نے بھرپور مدد کی اور مثنی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک عظیم فوجی لشکر تیار ہوگیا۔[1] دوسری طرف جب حکمران فارس کو مثنی رضی اللہ عنہما کے عظیم فوجی لشکر کی خبر ملی تو انہوں نے مثنی رضی اللہ عنہ کی فوج سے ٹکر لینے کے لیے مہران ہمدانی کو گھڑ سوار لشکر کا قائد بنا کر روانہ کیا اور ادھر جب مثنی کو مہران کی فوج کشی کا علم ہوا تو آپ نے دارالخلافہ سے عراق کو آنے والی امدادی افواج کو پیغام بھیجا کہ آپ لوگ مجھے مقام ’’بویب‘‘ پر ملیں۔ ان میں سرفہرست جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہما کا قافلہ تھا۔ آپ نے لکھا: میں نازک صورت حال سے گزر رہا ہوں اور اس سے اس وقت تک عہدہ برآ نہیں ہو سکتا جب تک کہ آپ لوگوں کا تعاون ہمیں نہ مل جائے، لہٰذا آپ لوگ پہنچنے میں جلدی کریں اور ’’بویب‘‘ میں ہم سے ملیں۔ چنانچہ اسلامی لشکر نے ’’بویب‘‘ میں پڑاؤ ڈالا ایرانی فوج اور اسلامی لشکر دونوں کے درمیان دریا حائل تھا۔ مہران نے مثنی رضی اللہ عنہ کے نام پیغام بھیجا کہ یا تم دریا عبور کرو یا ہم عبور کریں۔ مثنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: تمہی پار کرو۔ مہران نے اپنا لشکر لے کر دریا عبور کیا۔ چونکہ یہ واقعہ رمضان المبارک کے مہینے میں ۱۳ہجری میں ہوا تھا لہٰذا مثنی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ لوگ روزے سے ہیں اور روزہ جسم کی کمزوری ونرمی پیدا کرنے والا ہے، میری رائے ہے کہ آپ لوگ روزہ افطار کر لیں اور کھانا کھا کر تازہ دم وطاقتور ہو جائیں، یہ تمہارے دشمن کے مقابلے میں طاقت کا سبب ہو گا۔ لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے پھر سب نے افطار کیا۔ اس کے بعد مثنی رضی اللہ عنہ نے لشکر کو ترتیب دیا اور ان میں چل چل کر انہیں پامردی واستقامت پر ابھارنے لگے اور ہر لشکر کے علم بردار کے پاس جا جا کر کہتے: میں امید کرتا ہوں کہ آج عربوں کی شجاعت وشرافت پر داغ نہ آنے دو گے۔ اللہ کی قسم آج کے دن مجھے وہی چیز خوش کر سکتی ہے جو تم سب کو خوش کر سکتی ہے۔ ناقلین روایات کا بیان ہے کہ مثنی رضی اللہ عنہ نے اس وقت نہایت منصفانہ قول و فعل کا اظہار کیا، جنگ کی کلفتوں اور نتیجہ میں ملنے والی [1] التاریخ الإسلامی: ۱۰/ ۳۴۵، ۳۴۶۔ [2] الأنصاری العصر الراشدی: ص۲۱۷۔ [3] الأنصاری العصر الراشدی: ص۲۱۸۔ [4] تاریخ الطبری: ۴/ ۲۷۹۔ [5] التاریخ الإسلامی: ۱۰/ ۳۴۷۔