کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 583
گھمسان کی جنگ ہوئی بالآخر ایرانی فوج شکست کھا گئی اور نرسی میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ اس کے بعد ابوعبید نے مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور دیگر فوجی دستوں کو عراق کے نشینی علاقوں مثلاً نہرجور وغیرہ میں روانہ کیا۔ انہوں نے ان علاقوں کو کہیں صلح اور کہیں جنگ کے ذریعہ فتح کیا اور وہاں کے لوگوں پر جزیہ وخراج نافذ کرتے ہوئے بہت سارا مال غنیمت لے کر واپس ہوئے۔ انہوں نے جالینوس کی فوج کی بھی کمر توڑ دی تھی جو جابان کی مدد کے لیے آرہی تھی، اس کی فوج کا اسلحہ وغیرہ مال غنیمت کی شکل میں ہاتھ آیا اور وہ ذلت وحقارت کی کالک ملتے اپنی قوم کی طرف بھاگ گیا۔[1] اس طرح نہایت مختصر مدت میں پے در پے تین ایرانی لشکروں کا صفایا ہوگیا حالانکہ اہل فارس کے لیے ممکن تھا کہ اپنی فوج کو اکٹھا کر لیں اور کثرت تعداد کی بنا پر مسلمانوں کو ان کے آگے پیچھے دائیں اور بائیں ہر طرف سے گھیر لیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں ہونے دیا بلکہ دشمن کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور وہ مسلمانوں سے اس قدر مرعوب وخوفزدہ ہوگئے کہ ان کا ہر سپہ سالار یہی تمنا کرتا تھا کہ کاش میری جگہ دوسرے کو مقابلہ کرنا پڑتا اور وہ مسلمانوں کو کمزور کر دیتا تو بہتر ہوتا، ان تمام معرکوں میں مسلمانوں کی فوجی پیش قدمی اور دشمن کی سست رفتاری نے مسلمانوں کو خوب فائدہ پہنچایا۔[2] معرکہ جسر ۱۳ہجری: ایرانی فوج کا سپہ سالار جالینوس جب مسلمانوں سے شکست خوردہ ہو کر فارس واپس لوٹا تو اہل فارس نے اسے اور اس کی فوج کو کافی ملامت کی اور غرور کی پیشانی سے ذلت و ہزیمت کا پسینہ دھونے کے لیے آپسی اختلافات بھلا کر رستم کی حکمرانی پر سب متفق ہوگئے اور رستم نے ذو الحاجب بہمن جاذویہ کی قیادت میں بہت بڑی فوج مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے روانہ کی اور اسے چیتے کی کھال کا بنا ہوا ’’درفش کاویانی‘‘ (عظیم پرچم) نامی کسروی جھنڈا دیا، اہل فارس کی نگاہوں میں وہ جھنڈا متبرک مانا جاتا تھا، گویا وہ اسے فتح کی علامت سمجھ رہے تھے۔ اس کا طول بارہ ہاتھ اور عرض آٹھ ہاتھ تھا۔ ایرانی فوج مسلمانوں کے قریب پہنچی، دونوں کے درمیان ایک نہر تھی جس پر پل بنا ہوا تھا۔ انہوں نے مسلم افواج سے کہا: یا تو تم دریا عبور کرو یا ہم عبور کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے امیر ابوعبید رحمہ اللہ کو مشورہ دیا کہ آپ دشمن ہی کو دریا عبور کرنے دیں۔ لیکن ابوعبید رحمہ اللہ نے کہا: وہ ہم سے زیادہ موت پر دلیر نہیں ہیں، دریا ہم عبور کریں گے۔ پھر آپ دشمن کی طرف بڑھے اور اپنی فوج لے کر ایک تنگ جگہ پر اکٹھا ہوئے اور دونوں افواج میں ایسی زبردست جنگ ہوئی کہ اس سے پہلے کبھی اس کی مثال نہیں ملتی تھی، اسلامی فوج کی تعداد تقریباً دس ہزار تھی جب کہ ایرانی فوج کے ساتھ ہاتھیوں کا ایک عظیم لشکر تھا۔ مسلم افواج کے گھوڑوں کو بدکانے کے لیے ان کے گلوں میں گھنٹیاں باندھے ہوئے تھے۔ وہ جب مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے تو گھوڑے ان ہاتھیوں اور گھنٹی و گھنگرو کی آوازوں سے بدک جاتے۔ کافی مجبور کرنے پر بہت کم ہی [1] تاریخ الطبری: ۴/۲۷۲، ۲۷۳۔ [2] التاریخ الإسلامی: ۱۰/ ۳۳۶۔