کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 580
گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ اس معرکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل فارس کو شکست دی۔ ایرانی فوج کا سپہ سالار ’’جابان‘‘ اور اس کے میمنہ کا افسر ’’مردان شاہ‘‘ دونوں گرفتار کر لیے گئے۔ یاد رہے کہ انہی دونوں نے مسلمانوں کے خلاف مذہبی نفرت کی آگ بھڑکانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا تھا۔[1] ’’جابان‘‘ کو مطر بن فضہ تمیمی نے گرفتار کیا تھا، وہ نہیں جان سکے کہ میرا قیدی حقیقت میں ایرانی فوج کا سپہ سالار ’’جابان‘‘ ہے۔ ’’جابان‘‘ نے ان کو دھوکا دیا اور کہا کہ کچھ معاوضہ لے کر مجھے رہائی دے دو۔ مجاہدین نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا اور پکڑ کر ابوعبید رحمہ اللہ کے پاس لائے اور بتایا کہ یہ ایرانی لشکر کا سپہ سالار ہے، اسے قتل کر دیا جائے۔ ابوعبید رحمہ اللہ نے فرمایا: میں اللہ سے خوف کھاتا ہوں، بھلا اس شخص کو کیوں قتل کر سکتا ہوں جسے ایک مسلمان امان دے چکا ہو۔ مسلمان باہمی تعاون ومحبت میں ایک جسم کی مثال ہیں، جو فرض کسی ایک مسلمان پر لازم ہو وہ سارے مسلمانوں پر لازم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ ایرانی فوج کا قائد ہے۔ آپ نے کہا: قائد ہے تو رہا کرو، میں اس کے ساتھ غداری نہیں کر سکتا اور پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا۔[2] اس واقعہ میں ابو عبید ثقفی رحمہ اللہ کا مؤقف مسلمانوں کے عفو و درگزر اور وعدہ وفائی کی ایک لازوال مثال ہے اگرچہ کسی ایک فرد ہی نے اسے مان لیا ہو۔ بے شک لوگوں کو مسلمان بنانے اور انہیں اسلام کی طرف مائل کرنے میں ان بلند اخلاق کا بہت بڑا اثر تھا، چنانچہ جیسے جیسے غیر مسلموں میں اس بات کا چرچا ہوتا کہ مسلمانوں نے ایرانی فوج کے عظیم قائد کو محض اس وجہ سے چھوڑ دیا کہ مسلمانوں کے عام آدمی نے فدیہ لے کر اسے چھوڑ دینے کا وعدہ کر لیا تھا تو وہ دین اسلام کی طرف کشاں کشاں چلے آتے۔ دراصل یہ دین اسلام کا کمال تھا جس نے ان جیسے افراد کو جنم دیا تھا۔ اس مقام پر ہم مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے شاندار مؤقف کو بھی نہیں بھول سکتے کہ وہ خود کو ابوعبید رحمہ اللہ کی امارت کے تابع کر دیتے ہیں جب کہ خود عراق کے قدیم سپہ سالار رہ چکے ہیں۔ ابوعبید رحمہ اللہ ابھی پہلی مرتبہ وہاں آرہے ہیں۔ اس فرماںبرداری کی روح تھی کہ امیرالمومنین نے ابوعبید کو امیر بنا کر بھیجا تھا، قابل رشک ہیں وہ سپہ سالار اور ان کے ماتحت فوجی۔ مثنی رضی اللہ عنہ فطری طور پر ان اوصاف حمیدہ کے زیور سے آراستہ تھے، اس سے پہلے وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اسی طرح کر چکے تھے۔ اسلام کے لیے ان کی محبت و فریفتگی میں کبھی کوئی بدلاؤ نہیں آیا خواہ وہ سپہ سالار فوج رہے ہوں یا ایک عام سپاہی اور ایسا کیوں نہ ہوتا نابغہ روزگار ہستیاں اسی طرح ہوا کرتی ہیں۔[3] ۲: کسکر میں معرکہ سقاطیہ: ابوعبید ثقفی رحمہ اللہ نے معرکہ نمارق میں فتح پانے کے بعد ایران کی شکست خوردہ فوج کا پیچھا کیا، اس نے [1] البدایۃ والنہایۃ: ۷/۲۷۔