کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 579
بہرحال سات ہزار (۷۰۰۰) کی تعداد میں غازیان اسلام سر زمین عراق کی طرف بڑھے اور عمر رضی اللہ عنہ نے والی شام ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے نام لکھا کہ خالد بن ولید کے ساتھ لڑنے والے جو مجاہدین عراق سے آئے تھے انہیں عراق روانہ کر دیں۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں چار ہزار لوگوں کو عراق روانہ کیا اور وہ لوگ کوفہ پہنچے۔ مجاہدین کی یہ جمعیت جب عراق میں اکٹھی ہوگئی تو اسے معلوم ہوا کہ اہل فارس کی حکومت میں اختلاف وانتشار ہے اور آخرکار انہوں نے کسریٰ کی بیٹی پوران کو اپنا حاکم تسلیم کر لیا اور اس سے پہلے کی حاکم فارس آذر میدخت کو قتل کر دیا اور پوران بنت کسریٰ نے رستم بن فرخزاد نامی ایک ایرانی شخص کو دس سال کے لیے ملکی باگ ڈور اس شرط پر دے دی کہ وہ اندرونی بدعنوانی اور بیرونی جنگی معاملات سے بہ نفس نفیس نمٹے گا اور دس سال گزرنے کے بعد ملکی بادشاہت پھر آل کسریٰ میں واپس آجائے گی اور رستم نے اسے قبول بھی کر لیا۔ واضح رہے کہ رستم ایک نجومی تھا، اسے علم نجوم میں مہارت تھی، اس سے پوچھا گیا کہ (ستاروں کو دیکھ کر) جب تم جانتے ہو کہ ایران کا حشر بہتر نہیں ہو گا تو پھر یہ ذمہ داری تم نے کیوں لی ہے؟ اس نے جواب دیا: اقتدار کی حرص اور شہرت کی محبت میں۔[1] نمارق، سقاطیہ اور باروسما کے معرکے ۱: معرکہ نمارق ۱۳ ہجری: ابوعبید ثقفی رحمہ اللہ کے عراق پہنچنے اور وہاں کی فوجی کمان ہاتھ میں لینے کے بعد یہ معرکہ پیش آیا۔ دراصل اہل فارس کا مقصد یہ تھا کہ اس معرکہ کے گرمانے والے یعنی ابوعبید ثقفی رحمہ اللہ کو نفسیاتی طور پر دبا دیں اور عراقیوں کے دل میں اپنی کامیابی اور فتح کے قوی ارادوں کی پیشگی دھاک بٹھا دیں، چنانچہ انہوں نے اندرونی طور پر اپنی قوت مضبوط کی، لاؤ لشکر تیار کیا اور مسلمانوں کو ان کے آگے اور پیچھے ہر طرف سے گھیرنا شروع کیا۔ دوسری جانب عراق کے جاگیرداروں کو لکھا کہ اپنے علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی نفرت کی آگ بھڑکائیں اور تمام اضلاع میں ایک نقیب مقرر کیا جو وہاں کے باشندوں کو بغاوت کے لیے تیار کرے، چنانچہ ’’جابان‘‘ کو حکم دیا کہ فرات کے ساحلی علاقوں سے ہوتا ہوا ’’ببہقباذ‘‘ پہنچے اور ’’نرسی‘‘ اور ’’کسکر‘‘ پہنچے اور ایک لشکر روانہ کیا تاکہ وہ وہاں پہنچ کر لشکر تیار کریں اور وہاں سے مثنی کی زیر قیادت اسلامی فوج پر حملہ کریں، مثنی کو دشمن کے یکجا ہونے کی جب خبر ملی تو آپ نے اپنے ہتھیار بند مجاہدین کو ایک مقام پر سمیٹنا شروع کیا اور دوسری طرف عراقی جاگیرداروں نے بغاوت کا اعلان کر دیا، تمام اضلاع میں ایرانی ہرکاروں نے انقلاب کی آگ بھڑکانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور یکے بعد دیگرے ان کے علاقوں سے شر وفساد کی خبریں آنے لگیں۔ ابوعبید اور مثنی اپنا اپنا لشکر لے کر ’’خفان‘‘ پہنچے اور مورچہ بندی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ پھر ’’نمارق‘‘ کے میدان میں دونوں افواج صف آراء ہوئیں اور [1] ألانصار فی العصر الراشدی: ص ۲۱۶۔ [2] البدایۃ والنہایۃ: ۷/۲۶۔ [3] إتمام الوفاء فی سیرۃ الخلفاء: ص ۶۵۔ [4] إتمام الوفاء فی سیرۃ الخلفاء، ص: ۶۵۔