کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 569
نام پر اسلامی سلطنت اپنے دشمنوں سے خون ریزی اور طویل لڑائیوں میں مصروف تھی اور بہت ممکن تھا کہ خالد رضی اللہ عنہ جیسے عظیم قائد غرور کے فتنے میں خود مبتلا ہو کر عوام کے فتنے کا سبب بن جائیں اور اپنے کو قوت وشجاعت کا ناقابل تسخیر پہاڑ سمجھنے لگیں۔ بالخصوص اس لیے بھی کہ وہ سپہ سالارانہ عبقری شخصیت اور داد و دہش کے مالک ہیں اور پھر نتیجہ یہ ہو گا کہ خود خالد رضی اللہ عنہ اور دولت اسلامیہ کو بھی خسارے کا سامنا کرنا پڑے۔ دراصل جس طرح لوگ اپنے خلیفہ یعنی عمر رضی اللہ عنہ سے مربوط اور ان سے خوش تھے اور خالد رضی اللہ عنہ سپہ سالاری کے اصولوں کے پابند اور تقویٰ کے جذبہ سے سرشار تھے ان کے ہوتے ہوئے اگرچہ عمر رضی اللہ عنہ کے اندیشے ایک بعید احتمال معلوم ہوتے ہیں تاہم یہ عین ممکن تھا کہ آپ کی زندگی کے بعد اور خالد رضی اللہ عنہ جیسے فاتح دوراں سپہ سالار کے ساتھ کبھی یہ فتنے اور اندیشے حقیقی شکل اختیار کر لیں، لہٰذا ضرورت تھی کہ اسی دور میں اور خالد رضی اللہ عنہ جیسے عبقری زماں افراد کے ساتھ ہی ان فتنوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔[1] واضح رہے کہ ایک چھوٹا فوجی قائد جو اللہ کے راستے میں اچھی طرح آزمایا نہ گیا ہو اور جس کے کارناموں کی کوئی شہرت نہ ہو، اس کے مقابلہ میں ایک لیاقت مند باصلاحیت سپہ سالار کے بارے میں اس قسم کے فتنوں کا زیادہ ہی اندیشہ رہتا ہے۔[2] چنانچہ شاعر مصر حافظ ابراہیم نے اپنے دیوان میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اس اندیشے کی طرف اس طرح اشارہ کیا ہے: وقیل خالقت یا فاروق صاحبنا فیہ وقد کان أعطی القوس باریہا ’’اور کہا گیا کہ اے فاروق آپ نے ہمارے ساتھی (قائد) کے سلسلے میں صحیح فیصلہ نہیں کیا، (یا کہ ان کی مخالفت کی) حالانکہ کمان کے خالق نے ہی اسے کمان عطا کیا تھا۔‘‘ فقال خفت افتتان المسلمین بہ وفتنۃ الناس أعیب من یداویھا [3] ’’تو آپ (عمر رضی اللہ عنہ ) نے جواب دیا: میں ان کی وجہ سے مسلمانوں کے فتنہ میں پڑ جانے سے ڈرا اور جب عوام فتنے میں پڑ جائیں تو اس کا کوئی علاج کرنے والا نہیں ہوتا۔‘‘ مال خرچ کرنے میں نظر یے کا تضاد: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ سوچتے تھے کہ مال وعطا کے ذریعہ تالیف قلب اور کمزور عقیدہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کا دور ختم ہوچکا اور اسلام اب ایسے لوگوں کا محتاج نہیں رہا، لوگ خود اپنے ایمان وضمیر کی حفاظت کریں تاکہ جس حد تک لوگوں کے دلوں میں ایمان راسخ ہو چکا ہے کم از کم اس حد تک مثالی انسانوں کا ایک نمونہ پیش کر کے اسلامی [1] تاریخ الطبری: ۵/۴۳۔ [2] تاریخ الطبری: ۵/۴۳۔ [3] تاریخ الطبری: ۵/۴۳۔