کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 567
کو خبر ملی کہ خالد اور عیاض بن غنم رضی اللہ عنہما روم میں دشمن کے علاقہ میں کافی اندر تک گھس گئے ہیں اور بے شمار مال غنیمت لے کر واپس ہوئے ہیں، ادھر سیّدناخالد رضی اللہ عنہ کی شہرت سن کر لوگ مختلف علاقوں سے انہیں دیکھنے آتے تھے، انہیں میں سے اشعث بن قیس الکندی بھی تھے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بطور عطیہ و بخشش اشعث کو دس ہزار درہم دیے۔ واضح رہے کہ خالد رضی اللہ عنہ کا کوئی کام سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں رہتا تھا۔[1]بہرحال جناب خالد رضی اللہ عنہ کی اس عطیہ نوازی کی خبر پا کر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے سپہ سالار اعظم ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جس مال سے خالد نے اشعث کو نوازا ہے اس کی آمدنی کی بابت تحقیق کریں اور فوج میں کام کرنے سے انہیں فوراً معزول کر کے مدینہ بھیج دیں۔ پھر خالد رضی اللہ عنہ ، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر کیے گئے اور خلافت کی طرف سے مقررہ افراد کی کمیٹی معاملہ کی تحقیق کرنے لگی، اس کی قیادت سیّدناابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام کر رہا تھا چنانچہ معاملہ کی تحقیق میں خالد رضی اللہ عنہ اس بات سے بری ثابت ہوئے کہ انہوں نے مسلمانوں کے مال غنیمت میں ناجائز تصرف کر کے اشعث کو دس ہزار درہم دیے ہوں۔[2] اور جب خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی معزولی کی خبر سنی تو اہل شام کو الوداع کہاا ور اس موقع پر زیادہ سے زیادہ جس افسوس کا اظہار کیا اسے ان لفظوں میں بیان کردیا: ’’بے شک امیرالمومنین نے مجھے شام کا امیر بنایا اور جب ملک شام مکھن اور شہد دینے لگا تو مجھے معزول کر دیا۔‘‘ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: ’’اے امیر! صبر کریں، اس بات سے ایک فتنہ برپا ہو سکتا ہے۔‘‘ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’نہیں، سن لو! ابن خطاب جب تک زندہ ہیں کوئی فتنہ برپا نہیں ہو سکتا۔[3] ‘‘ یہ ہے زور آور اور قوی ایمان کی ایک جھلک، جس سے چنیدہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نوازے گئے تھے۔ غور کا مقام ہے کہ ایسے نازک موڑ پر کون سی روحانی قوت سیّدناخالد رضی اللہ عنہ کے اعصاب پر غالب تھی؟ اور خالد رضی اللہ عنہ کی زبان پر کون سا الہام ہوا کہ آپ نے یہ خوش گوار وحکیمانہ جواب دیا؟[4] سیّدناخالد رضی اللہ عنہ کی زبان سے فاروقی خلافت کی بنیادوں کو استحکام عطا کرنے والے ان کلمات کو سن کر حیرت وغصہ سے بھڑکتے ہوئے لوگوں کے دل ٹھنڈے پڑ گئے اور انہوں نے جان لیا کہ ان کا معزول سپہ سالار ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو فتنوں اور تباہ کن انقلابات کی بوسیدہ ومنتشر ہڈیوں پر اپنی عظمت کے محل تیار کرتے ہیں، بلکہ ان عبقری زماں لوگوں میں سے ہے جو تعمیر و اصلاح کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اگر زندگی ان کی اصلاحی و تعمیری کارناموں کو ڈھانا چاہے تو اپنی ذات کا اس بات پر سودا کر لیتے ہیں کہ اس کے غرور کا سر نیچا ہو جائے۔[5] سیّدناخالد رضی اللہ عنہ مدینہ کی طرف نکل پڑے اور وہاں پہنچ کر امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی شان میں یہ شعر پڑھا: [1] نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: ص ۸۴۔ [2] نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: ص ۸۴۔ [3] أباطیل یجب أن تمحی من التاریخ: ص ۱۳۲۔ [4] عبقریۃ خالد: العقاد ص ۱۵۴، ۱۵۵، ۱۵۶۔ [5] تاریخ الطبری: ۵/۴۱۔