کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 566
کیونکر پا سکتا ہوں۔ اس وقت آپ کے سامنے گواہی دیتا ہوں کہ میں نے خود کو اللہ کے راستے میں وقف کر دیا ہے، میں کبھی آپ کی مخالفت نہیں کر سکتا اور نہ اب کبھی کسی امارت کو سنبھال سکتا ہوں۔‘‘ سیّدناخالد رضی اللہ عنہ نے صرف ان باتوں کے کہنے پر اکتفاء نہ کیا بلکہ اسے کر دکھایا اور فوراً مطلوبہ مہم کے نفاذ کے لیے نکل پڑے۔[1]اس واقعہ میںسیّدنا خالد رضی اللہ عنہ کے قول وعمل سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ خالد اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما دونوں کے طرز فکر وعمل پر مذہب واخلاق کا رنگ غالب تھا اور جناب خالد رضی اللہ عنہ باوجودیکہ فوجی قیادت (سپہ سالاری) سے معزول ہو جانے کے بعد ذاتی طور پر حاکم سے محکوم بن چکے تھے پھر بھی خلیفہ و والی کی اطاعت کے اصول پر قائم تھے۔[2] دراصل پہلی مرتبہ خالد رضی اللہ عنہ کی معزولی اس وجہ سے نہیں ہوئی تھی کہ خلیفہ کو آپ پر کوئی شک تھا یا ان کے خلاف کوئی جاہلی کینہ دل میں مخفی تھا یا ان پر محرمات شریعت کے ارتکاب کی کوئی تہمت تھی، یا ان کے عدل وتقویٰ پر کوئی سوالیہ نشان تھا۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ دو عظیم شخصیتوں کے سوچنے وعمل کرنے کا الگ الگ انداز تھا اور وہ دونوں ایسی قوی شخصیتیں تھیں کہ ان میں سے ہر ایک اپنے ہی طرز فکر و عمل کو نافذ کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ پس ایسی صورت حال میں ضروری تھا کہ کوئی ایک اپنے طرز فکر وعمل سے پیچھے ہٹ جائے اور چونکہ امیرالمومنین اور فوجی قائد کا ٹکراؤ تھا اس لیے مناسب یہی تھا کہ فوجی قائد بغیر کسی کینہ، دشمنی اور باطنی کدورت کے امیر المومنین کے سامنے جھک جائے۔[3] بے شک سیّدناخالد رضی اللہ عنہ کے بعد ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو شامی افواج کا قائد و سپہ سالار بنانا بھی عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ توفیق الٰہی کا ایک مظہر تھا۔ بایں طور کہ یہ سب کچھ جنگ یرموک کے بعد پیش آیا تھا اور وہ وقت صلح کرنے، دشمن کے سینوں سے حسد و کدورت مٹانے، ان کے زخموں کو بھرنے اور دلوں کو جوڑنے کا متقاضی تھا اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی یہ خوبی تھی کہ اگر دشمن کی طرف سے صلح ومصالحت کے دروازے کھلتے تو آپ صلح کو ترجیح دیتے اور اگر اسبابِ جنگ جنگ پر مجبور کرتے تو اس سے بھی پیچھے نہ ہٹتے گویا اگر صلح ومصالحت مناسب ہوتی تو وہی کرتے ورنہ جنگ کے لیے تیار رہتے اور چونکہ شامی شہروں کے باشندوں کے درمیان ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی بردباری کا بڑا چرچا تھا، اس لیے وہ خود کو آپ کے سامنے جھکانے کے لیے تیار رہتے اور دوسروں کے مقابلہ میں ان کے سامنے اپنی بات کو پیچھے کر لیتے۔ اس طرح ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی شام کی گورنری فاروقی طرز سیاست کا نمونہ تھی اور اس مرحلہ میں ریاست شام کی سابقہ حکومتوں کے مقابلہ میں آپ کی ولایت (گورنری) سب سے بہتر تھی۔[4] ۲: دوسری معزولی: ۱۷ ہجری میں ’’قنسرین‘‘ میں سیّدناخالد رضی اللہ عنہ کی دوسری معزولی کا حکم آیا۔[5] امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ [1] خالد بن ولید: صادق عرجون ص ۳۲۱۔ [2] خالد بن ولید: صادق عرجون ص ۳۴۶۔ [3] خالد بن ولید: صادق عرجون ص ۳۲۳۔