کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 559
جبہ منگوایا اور کہا: اسے پہنو۔ پھر انہیں چرواہے کا تھیلا دیا اور ساتھ تین سو بکریاں دے کر کہا: لے جاؤ انہیں چراؤ اور ان کی دیکھ بھال کرو۔ عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ انہیں لے کر چلے جب کچھ دور چلے گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا۔ وہ دوڑ کر آپ کے پاس پہنچے۔ آپ نے فرمایا: اس اس طرح سے کام کرنا، جاؤ۔ چنانچہ وہ چلے گئے، ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ آپ نے انہیں پھر بلا لیا اور کہا: عیاض ادھر آؤ، اس طرح کئی بار آپ ان کو کچھ سمجھاتے اور جانے کو کہتے، پھر بلاتے پھر جانے کو کہتے، یہاں تک کہ عیاض رضی اللہ عنہ کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جاؤ اور فلاں دن بکریوں کو لے کر میرے پاس آنا۔ عیاض رضی اللہ عنہ مقررہ دن پر بکریوں کو لے کر حاضر ہوئے۔ عمر رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور کہا: ان بکریوں کے لیے پانی بھرو۔ عیاض رضی اللہ عنہ نے حوض بھرنا شروع کیا یہاں تک کہ اسے بھر دیا اور بکریوں کو پلایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں پھر لے جاؤ، چراؤ اور ان کی دیکھ بھال کرو اور فلاں دن لے کر آنا۔ اس طرح عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ دو یا تین ماہ اس تادیبی سزا کو جھیلتے رہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا اور کہا: سنو! تم نے اعلیٰ قسم کا حمام بنوایا تھا اور اپنے نواب اور ہم نشین مقرر کیے تھے۔ کیا پھر ایسا کرو گے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تب آپ نے فرمایا: جاؤ اب اپنا کام سنبھالو۔[1] چنانچہ اس تادیبی سزا کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے بعد عیاض رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے افضل ترین والیان ریاست میں شمار ہونے لگے۔[2] ۶: والیان ریاست کا مال تقسیم کر لینا: عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں والیان ریاست کا مال تقسیم کرا لینے کا نظام آپ کی طرف سے ایک احتیاطی اقدام تھا۔ آپ نے محسوس کیا کہ ہمارے بعض گورنران کے پاس مالی آمدنی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ لوگ اپنے منصب کے سبب یہ مال حاصل کرتے ہیں۔[3] علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس احتیاطی تدبیر پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خرید وفروخت، اجرت وٹھیکہ داری، مضاربت وشراکت، کھیتیوں کی بٹائی وغیرہ دینے کے معاملات میں والیان ریاست کے ساتھ نرمی وسہولت کرنا، انہیں ہدیہ دینے کی ایک شکل ہے۔ اسی وجہ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دیندار اور مال دار گورنروں سے ان کا مال نصف نصف تقسیم کرلیا اور انہیں خیانت سے متہم نہیں کیا۔ کیونکہ انہیں صرف منصب ملنے کی وجہ سے سہولتیں اور نرمی مل جاتی تھی لہٰذا ان کے ساتھ یہی برتاؤ مناسب تھا۔ آپ کا ایسا کرنا بالکل بجا تھا، اس لیے کہ آپ عادل حکمران تھے اور سب کو حقوق برابر تقسیم کرتے تھے۔[4]عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے جن گورنروں کا مال تقسیم کروایا تھا ان میں سعد بن ابی وقاص، ابوہریرہ اور عمرو بن عاصرضی اللہ عنہم تھے، آپ جب کسی کو کہیں کا گورنر یا افسر بنا کر بھیجتے تو اس کی ذاتی جائداد لکھ لیا کرتے تھے اور آمدنی سے زیادہ [1] تاریخ المدینۃ: ۳/۸۳۲، الولایۃ علی البلدان: ۲/۱۲۸۔ [2] تاریخ المدینۃ: ۳/۸۳۴۔ [3] الولایۃ علی البلدان: ۲/۱۲۹۔