کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 549
جائے گی۔ حالانکہ آپ بخوبی واقف تھے کہ یہ لوگ فتنہ انگیز وشرپسند ہیں اور من مانی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آپ نے ان کے بارے میں اپنی رائے پوشیدہ نہیں رکھی اور اسے کھلے لفظوں میں کہہ دیا ’’مجھے غالب گمان ہے کہ تم لوگ گورنر پر ظلم کر رہے ہو اور حقائق چھپا رہے ہو پھر بھی آپ لوگوں کی شکایت کی تحقیق کی جائے گی۔‘‘ آپ نے شکایت کے لیے ایسے نازک وقت کے انتخاب کو دیکھ کر ہی سمجھ لیا تھا کہ ان کی نیت بری ہے۔ ان سے کہا: ’’تمہارے برے ارادے کی دلیل یہی ہے کہ تم ایسے وقت میں یہ معاملہ پیش کر رہے ہو جب دشمنوں اور مسلمانوں کی جنگی تیاریاں انتہائی عروج پر ہیں، تاہم اللہ کی قسم تمہارے معاملے کی تحقیق سے کوئی چیز میرے لیے مانع نہیں ہو سکتی اگرچہ دشمن تم پر حملہ آور ہی کیوں نہ ہو جائے۔‘‘[1] چنانچہ ایک طرف مسلمان ایرانیوں سے محاذ آرائی کے لیے تیاریاں کر رہے تھے ، عجمی بھی اپنا لشکر اکٹھا کر رہے تھے اور دوسری طرف عمر رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو جو افسران کے خلاف آنے والی شکایات کی تحقیق کرتے تھے معاملہ کی تحقیق کے لیے بھیجا۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تاکہ اہل کوفہ سے ان کے خلاف شکایت کی حقیقت معلوم کریں۔ یہ ایسا وقت تھا کہ نہاوند کی جنگ میں شرکت کے لیے مختلف شہروں میں مجاہدین کے دستے تقسیم کیے جا رہے تھے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لے کر کوفہ کی مسجدوں میں جاتے اور علی الاعلان ان کے بارے میں لوگوں سے تحقیق کرتے۔ ان کے خلاف شکایات کی تحقیق خفیہ طریقہ سے نہیں کرتے تھے اور ایسا کرتے کیوں؟ اس دور میں یہ ان کی شان کے خلاف تھا۔[2] اس طرز تحقیق سے ہمارے سامنے صحابہ کرام کا یہ منہج سامنے آتا ہے کہ ذمہ داروں اور ان کے ماتحت عملہ کے درمیان اگر کوئی اختلاف اور رنجش ہوتی تو وہ کس طرح اس کی تحقیق کرتے تھے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ تحقیق علی الاعلان ہوتی تھی۔ ذمہ دار بھی موجود ہوتا اور اس کا ماتحت عملہ بھی۔ بہرحال محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ جس مسجد میں بھی جاتے وہاں کے لوگوں سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھتے اور ان سب کا یہی جواب ہوتا کہ ’’ہم ان کے بارے میں خیر ہی جانتے ہیں، ان کی جگہ پر ہم دوسرا امیر نہیں چاہتے، ان کے خلاف ہمیں کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہم کسی شکایت کی تائید کرتے ہیں۔‘‘ صرف وہ لوگ جنہیں جراح بن سنان اور اس کے ساتھیوں نے بہکا رکھا تھا وہ لوگ سعد رضی اللہ عنہ کی طرف کسی برائی کو منسوب تو نہ کرتے البتہ خاموش رہتے اور قصداً کوئی تعریف نہ کرتے۔ جب یہ تحقیقی ٹیم بنو عبس تک پہنچی تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں اگر تم میں سے کوئی آدمی شکایت کی حقیقت جانتا ہو تو وہ بتا دے چنانچہ اسامہ بن قتادہ نے کہا: اگر آپ نے ہمیں اللہ کا واسطہ دیا ہے تو ہم بتاتے ہیں، سنیے، یہ (عطیات وغنائم کو) برابر تقسیم نہیں کرتے، رعایا میں عدل وانصاف نہیں کرتے اور غزوات میں شریک نہیں ہوتے۔ اس وقت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! اگر اس کی بات جھوٹ ہے اور [1] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۶۳۔ [2] الإدارۃ الإسلامیۃ فی عہد عمر بن خطاب، ص: ۲۲۳۔