کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 548
کبھی کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔ روایات میں آتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک صندوق تھا، آپ اس میں معاہدے ومصالحت کے تمام کاغذات رکھتے تھے۔ عصر حاضر میں ہم اسے ریکارڈ فائل یا حفظ خانہ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ زیادہ امکان ہے کہ والیان ریاست بھی اپنے اہم کاغذات اور سرکاری خطوط کو محفوظ رکھتے رہے ہوں گے تاکہ بوقت ضرورت وہ ان کو دیکھ سکیں اور معاملات میں کوئی پیچیدگی نہ پیدا ہو۔[1] والیان ریاست کے بارے میں رعایا کی شکایتیں: عمر رضی اللہ عنہ والیان ریاست کے خلاف رعایا کی شکایات کی خود تحقیق کرتے تھے اور اس بات کی پوری کوشش کرتے تھے کہ معاملہ کی ہر اعتبار سے وضاحت اور گہری تحقیق ہو نیز اس سلسلے میں اپنے ہم نشین اصحاب فکر و نظر اور دانشوران سے مشورہ لے لیا جائے اور پھر کسی نتیجہ پر پہنچنے کے بعد جو جس بدلہ اور سزا کا مستحق ہوتا تھا اسے سزا دیتے، خواہ وہ گورنر ہو یا رعایا[2] چنانچہ اس بحث میں گورنران کے خلاف رعایا کی شکایات اور ان کے ساتھ فاروقی برتاؤ کے چند نمونے پیش کیے جا رہے ہیں: ۱: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اہل کوفہ کی شکایت: جراح بن سنان اسدی کی قیادت میں کوفہ کے کچھ لوگ اکٹھے ہوئے اور امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اپنے امیر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ واضح رہے کہ یہ ایسے نازک وقت کا واقعہ ہے کہ جب نہاوند میں مجوسیوں کا فوجی لشکر مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کے لیے زور شور سے تیاریاں شروع کر رہا تھا اور شکایت کرنے والے گروہ کو مسلمانوں پر دشمن کے ناگہانی حملہ آور ہونے کی کوئی فکر نہ تھی، حالانکہ سعد رضی اللہ عنہ اپنی رعایا کے لیے نہایت مہربان اور عدل پرور ثابت ہوئے تھے۔ باطل پسندوں اور فرقہ بندی کرنے والوں کے خلاف سخت تھے اور حق پرستوں اور اطاعت شعاروں کے لیے نرم تھے۔ اس کے باوجود جو لوگ برحق فیصلہ کے سامنے خود کو جھکانا نہیں چاہتے تھے اور من مانی زندگی گزارنا چاہتے تھے انہوں نے آپ کے خلاف ہنگامہ آرائی کی اور امیرالمومنین سے شکایت کے لیے ایسا وقت منتخب کیا جس کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ امیرالمومنین ہماری شکایت پر زیادہ توجہ دیں گے۔ وہ نازک وقت یہی تھا کہ مسلمان عنقریب شروع ہونے والی جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے اور وقت کا تقاضا تھا کہ وہ متحد رہیں اور ان کی اتحادی قوت دشمنوں سے مقابلہ آرائی کے لیے کام آئے۔ واضح رہے کہ اس شر پسند گروہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد کو ہر چیز پر فوقیت دیتے تھے بالخصوص پیش نظر جنگی حالات میں۔ بہرحال شرپسند گروہ کو یہ امید تھی کہ موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ دوسری طرف عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی شکایت کو قبول کیا اور کہا کہ اس کی تحقیق کی [1] تاریخ المدینۃ: ۳/۸۳۷۔ [2] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۶۲۔ [3] تاریخ المدینۃ: ۳/۸۳۷۔ [4] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۶۲۔