کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 544
وہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں موجود تھا چنانچہ آپ کے علم میں یہ بات ہوتی تھی کہ آپ کا کون سا افسر اپنے فرائض سے دور ہے۔ ایک بستر اور ایک ہی تکیہ پر کون کس کے ساتھ سویا ہے۔ کسی علاقے اور کسی بھی ریاست میں کوئی افسر یا امیر لشکر کسی حالت میں ہوتا اس کے ساتھ آپ کا جاسوس برابر لگا رہتا۔ اسلامی سلطنت کے مشرق ومغرب میں بولے گئے الفاظ ہر صبح وشام آپ کے پاس موجود ہوتے۔ آپ نے اپنے افسران کے نام جو خطوط ارسال کیے تھے ان میں اس بات کا اچھی طرح مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور اسی نگرانی کی برکت تھی کہ وہ افسران اپنے قریبی اور خاص لوگوں سے بھی بے خوف نہیں ہوتے تھے۔[1] آپ اپنے عمال کی نگرانی میں متعدد وسائل استعمال کرتے تھے، ان میں سے چند یہ ہیں: ۱: والیان ر یاست دن کے وقت مدینہ میں داخل ہوں: آپ مدینہ آنے والے اپنے والیان ریاست کو حکم دیتے تھے کہ وہ دن کے وقت مدینہ میں داخل ہوں، رات کو داخلنہہوں۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ وہ جو کچھ بھی اموال واسباب لے کر آئیں وہ سامنے رہے اور اس کے بارے میں استفسار ومحاسبہ کرنا آسان رہے۔[2] ۲: والیان ریاست سے وفود بھیجنے کا مطالبہ: عمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنران سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ ریاست کے کچھ افراد پر مشتمل وفد بھیجا کریں تاکہ آپ ان سے ان کے شہروں کے حالات اورحکومت کی عائد کردہ خراج (لگان) کے بارے میں معلومات لے سکیں اور آپ کو یقین ہو جائے کہ گورنر ظلم تو نہیں کر رہے ہیں۔ آپ وفد سے گورنران کے ظلم نہ کرنے کی گواہی لیتے تھے چنانچہ جب کوفہ سے خراج کا مال آپ کے پاس آتا تھا تو اس کے ساتھ باشندگان کوفہ میں سے دس افراد پر مشتمل ایک وفد ہوتا تھا، اسی طرح بصرہ سے آنے والے خراج کے ساتھ ایک وفد ہوتا تھا۔ جب وہ لوگ آپ کے سامنے آتے تو حلفیہ گواہی دیتے کہ یہ مال حلال اور پاک ہے اس میں کسی مسلمان یا ذمی پر ظلم کا مال نہیں ہے۔[3] آپ کی یہ حکیمانہ کارروائی والیان ریاست کو لوگوں پر ظلم کرنے سے روکنے میں کافی موثر تھی کیونکہ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ اگر ان کی طرف سے کچھ بھی ظلم ہو گا تو یہ وفد امیرالمومنین تک اسے پہنچا دے گا اور آپ کو اس کی اطلاع ہو جائے گی۔ عموماً عمر رضی اللہ عنہ ان وفود سے کافی بحث ومباحثہ کرتے اور کرید کرید کر ان کے شہروں اور گورنروں کے اخلاق و برتاؤ کے بارے میں پوچھتے۔[4] [1] النظم الإسلامیۃ: صبحی الصالح ص ۸۹، الإدارۃ الإسلامیۃ: ۲۱۵۔ [2] مناقب امیرالمومنین عمر بن الخطاب: ابن الجوزی ص ۵۶، الإدارۃ الإسلامیۃ: ۲۱۵۔ [3] الإدارۃ الإسلامیۃ فی عہد عمر بن الخطاب: ص۲۱۵۔