کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 540
اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ کے دیگر گورنران نے جب کوفہ، بصرہ اور فسطاط جیسے بڑے بڑے شہروں کو آباد کیا تو وہاں کی سڑکوں کی تعمیر واصلاح، اراضی کی تقسیم، مساجد کی تعمیر اور آبی وسائل کی فراہمی جیسے دیگر مصالح عامہ کی چیزوں پر خاص توجہ دی۔ نیز انہوں نے بعض ایسے علاقوں میں لوگوں کو بسایا جہاں وہ لوگ محض جانا پسند نہیں کرتے تھے کہ وہ علاقے دشمن کی سرحدوں سے متصل یا قریب ہوتے تھے۔ لیکن والیان ریاست نے ان کے لیے طبعی میلان کے اسباب اور شوق دینے والی چیزوں کو فراہم کیا، وہاں بسنے والوں کو ہمت افزائی کے طور پر جاگیریں دی گئیں۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انطاکیہ اور جزیرہ عرب کے بعض دوسرے شہروں میں یہی پالیسی اختیار کی تھی۔ ۹: باشندگان ریاست کے معاشرتی احوال وظروف کی رعایت: عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب ریاستوں کے وفود آتے تھے تو آپ ان سے ان کے ’’امیر‘‘ کے بارے میں دریافت کرتے، اگر وفد کے لوگ کہتے کہ ’’امیر‘‘ خیریت سے ہیں تو آپ ان سے پوچھتے: کیا وہ تمہارے بیماروں کی عیادت کرتے ہیں؟ اگر وہ کہتے: ہاں، تو پوچھتے کہ کیا غلاموں کی بھی عیادت کرتے ہیں؟ اگر کہتے ہاں، تو پوچھتے کہ کمزوروں کے ساتھ ان کا برتاؤ کیسا ہے؟ کیا ان کے گھر جاتے ہیں؟ چنانچہ اگر مذکورہ سوالات میں سے کسی کا جواب نفی میں ملتا تو وہاں کے امیر کو معزول کر دیتے [1] خاص طور سے اگر یہ خبر ملتی کہ وہ امیر مریض کی عیادت نہیں کرتا اور کمزور آدمی (خوف سے) اس کے پاس نہیں جاتا۔[2] سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس بات کے حریص تھے کہ آپ کے افسران عوام میں سرتاپا تواضع وخاکساری کا مظہر ہوں تاکہ عوام یہ محسوس کریں کہ ان کا گورنر انہی میں سے ایک فرد ہے، وہ ان سے ممتاز وبرتر نہیں ہے۔ اسی لیے آپ اپنے افسران و گورنران کے لیے لوگوں کی طرح عام سواری اور لباس استعمال کرنے کی شرط لگا دیتے تھے اور انہیں دربان رکھنے سے منع کرتے تھے۔[3] ۱۰: عربی اور غیر عربی میں عدم امتیاز: والیان ریاست کے لیے فرض ہے کہ وہ عوام میں مساوات برتیں، مسلمانوں میں عربی اور غیر عربی کا امتیاز نہ ہو۔ چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ ایک افسر کے پاس کچھ لوگ جماعت کی شکل میں آئے۔ اس نے عربوں کو عطیات سے نوازا اور غلاموں کو نظر انداز کر دیا۔ جب عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی خبر ملی تو آپ نے اس کے نام خط لکھا: ’’حمدوصلاۃ کے بعد! آدمی کے برا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔‘‘ اور دوسری روایت کے مطابق آپ نے لکھا: ’’تم نے ان سب میں برابری کیوں نہیں کی؟‘‘[4] بہرحال اس بحث میں مذکورہ فرائض کے علاوہ بھی گورنران پر بعض دیگر اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں [1] الولایۃ علی البلدان: ۲/۷۹۔ [2] الولایۃ علی البلدان: ۲/۸۰۔ [3] الولایۃ علی البلدان: ۲/۸۰۔ [4] نصیحۃ الملوک: الماوردی، ص ۲۰۷، موسوعۃ فقہ عمر: ص۱۳۴۔ [5] فتوح البلدان: البلاذری، ص۲۷۳، الولایۃ علی البلدان: ص۸۷۲۔ [6] فتوح البلدان: البلاذری، ص۳۵۱، ۳۵۲۔