کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 539
یا خراج وغیرہ کے افسر۔ واضح رہے کہ عموماً یہ تقرری خلیفہ وقت اور گورنر کے اتفاق رائے سے ہوتی تھی۔[1] ۶: ذمیوں کے حقوق کی رعایت: شرعی احکامات کی بجا آوری کرتے ہوئے ذمیوں کی رعایت، ان کے عہد وپیمان کا احترام، شرعی حقوق کی پاسداری، مسلمانوں کے تئیں ان پر واجبی حقوق کا مطالبہ، ان کی خبر گیری اور ان پر ظلم کرنے والوں سے ظلم کا بدلہ دلانا وغیرہ امور گورنران ریاست کے فرائض میں داخل ہوتے تھے۔ بیشتر اوقات میں خلفاء ذمیوں سے مصالحت کرنے سے پہلے ان پر کچھ خاص شرطیں لگا دیتے تھے اور پھر ان کے حقوق ان تک پہنچاتے تھے اور ان سے شرائط کی بخوبی پابندی کا مطالبہ کرتے تھے۔[2] ۷: دانشوران قوم سے مشورہ طلبی اور ان کی عزت و توقیر: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے والیان ریاست کو سختی سے اس بات کا حکم دیا تھا کہ ان کی ریاستوں میں جو لوگ رائے دینے کے اہل ہوں اور دانشور ہوں، ان سے مشورہ لیتے رہیں۔ چنانچہ وہ لوگ اسے عملاً انجام دیتے تھے اور دانشوران قوم کی مجالس منعقد کیا کرتے تھے۔[3] عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دے رکھا تھا کہ اہل الرائے سے برابر مشورہ لیتے رہو اور لوگوں کے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے انہیں محترم جانو، آپ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا: ’’مجھے خبر ملی ہے کہ تم لوگوں کی بڑی بھیڑ جمع کرتے ہو۔ جب تم کو میرا یہ خط ملے تو اپنے پاس صرف ایسے لوگوں کی مجلس منعقد کرو جو شرافت ونجابت والے، قرآن کے پابند اور تقویٰ و دینداری کے خوگر ہوں۔ جب وہ لوگ پہلے اپنی جگہوں پر بیٹھ جائیں تب عوام الناس کو اجازت دو۔‘‘ اور ایک مرتبہ تحریر کیا کہ: ’’ہمیشہ سے ایسا ہوا ہے کہ معزز لوگ کئی لوگوں کے نمائندے ہوتے ہیں جو ان کی ضرورتیں پیش کرتے ہیں۔ لہٰذا تم ان معزز حضرات کو اکرام وعزت سے نوازو، کمزور مسلمان کے لیے یہی کافی ہے کہ فیصلہ اور تقسیم میں انصاف پا جائے۔‘‘[4] ۸: ریاست کے تعمیراتی منصوبوں پر توجہ: اس باب میں ہم دیکھتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کاشتکاروں کی زرعی مصلحت کے پیش نظر بعض اہل فارس کی سفارش پر اپنی ریاست میں نہر کھدوائی۔[5] اسی طرح عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر حکم دیا کہ بصرہ والوں کے لیے نہر کھودی جائے۔ چنانچہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے باشندگان بصرہ تک پانی لانے کے لیے چار فرسخ لمبی نہر کھدوائی۔[6] [1] فتوح الشام: الازدی، ص۲۵۷، الولایۃ علی البلدان: ۲/۷۸۔ [2] تاریخ المدینۃ: ۲/۷۴۹۔ [3] الولایۃ علی البلدان: ۲/۷۹۔ [4] فتوح البلدان: البلاذری، ص۱۴۳، ۲۲۴۔