کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 538
یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے آپ سے کہا: اے امیرالمومنین! ہم حجاز میں اپنے اہل خانہ کو جو کھلاتے تھے اس کے مقابلے میں یہ چیزیں جن کا بلال نے ذکر کیا ہے، یہاں سستی قیمت میں ہمیں دستیاب ہیں۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں ہرگز نہیں، اللہ کی قسم میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم مجھے ضمانت نہ دے دو کہ ہر مہینہ مسلمانوں کی پوری خوراک اور وظائف ان میں تقسیم کر دو گے۔ پھر آپ نے فرمایا: دیکھو کہ ایک آدمی کو کتنی خوراک کافی ہو گی؟ انہوں نے کہا: ہر مہینہ کے شروع میں دو جریب کے مقدار غلہ اور اسی کے مناسب تیل اور سرکہ۔ چنانچہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مذکورہ مقدار تقسیم کرنے کی ضمانت لی اور اس کے بعد آپ نے عام مسلمانوں کو خطاب کیا: ’’یہ ماہانہ خوراک تمہارے عطیات کے علاوہ ہے، میں نے تمہارے لیے ان حکام پر جو فرض کیا ہے اگر یہ امراء اسے تمہیں پورا پورا ہر مہینے دیتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے اور اگر ایسا نہیں کرتے تو مجھے خبر دو تاکہ انہیں معزول کر دوں اور ان کی جگہ دوسروں کو حاکم بنا دوں۔‘‘[1] آپ اس بات کے لیے کوشاں رہتے تھے کہ شہروں میں خوراک کی کمی نہ ہو، آپ بازاروں کی جانچ ونگرانی کرتے رہتے تھے اور ذخیرہ اندوزی سے منع کرتے تھے۔ بازاروں کی نگرانی کرنے میں آپ کے گورنران بھی آپ ہی کے نقش قدم پر چلتے تھے۔ آپ تاجروں کو حکم دیتے تھے کہ عالمی پیمانے پر تجارت کریں اور مسلمانوں کے لیے مال درآمد کریں اور ان کی منڈی کو مال وسامان سے بھر دیں۔[2] صرف اتنا ہی نہیں کہ آپ اور آپ کے گورنروں نے عوام کے لیے خوراک کے انتظام اور بازاروں کی نگرانی پر بس کیا ہو بلکہ رہائش گاہوں کا انتظام اور مستحقین میں ان کی تقسیم بھی گورنران کی ذمہ داری کا ایک حصہ ہوتا تھا۔ چنانچہ جب شہروں کی خاکہ بندی اور آبادکاری ہوئی تو کوفہ، بصرہ[3] اور فسطاط میں وہاں کی زمین کو ان کے باشندوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ان تمام ذمہ داریوں کے ساتھ امرائے ریاست مفتوحہ شہروں مثلاً حمص، دمشق اور اسکندریہ کے مکانات کی تقسیم کی بھی نگرانی کرتے تھے۔[4] ۵: افسران وملازمین کی تقرری: ریاستی عہدوں پر افسران وملازمین کی تقرری بیشتر اوقات گورنران کے ذمہ ہوا کرتی تھی چونکہ عموماً ایک مرکزی شہر کے ساتھ دیگر چھوٹے چھوٹے شہروں اور ذیلی شاخوں سے مل کر ایک ریاست وجود میں آتی ہے اور اسے ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے زیر نگرانی تمام امور منظم رہیں اس لیے اس ضرورت کی تکمیل کرتے ہوئے گورنر حضرات اپنے جیسے افراد کو ماتحت علاقوں پر افسر وملازم مقرر کرتے تھے۔ خواہ وہ ان علاقوں کے امیر ہوں [1] سنن البیہقی: ۶/۳۵۷، موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: ص۱۳۵۔ [2] موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: ص۱۳۷۔ [3] الولایۃ علی البلدان: ۲/۷۷۔