کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 537
۴: عوام کو معاشی خوشحالی فراہم کرنے کی جدوجہد: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر فرمایا: ’’اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے صحیح سالم باقی رکھا تو میں عراق کی بیواؤں کو اس حال میں چھوڑوں گا کہ وہ میرے بعد کسی کی محتاج نہ رہیں گی۔‘‘ اس موضوع کے تحت ہمیں آپ کا وہ مؤقف نہیں بھولنا چاہیے جو آپ نے عام الرمادہ میں قحط کے موقع پر اختیار کیا تھا کہ جب آپ نے لوگوں کی بھوک مٹانے اور بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کے تمام تر ممکنہ وسائل وذرائع کو استعمال کر ڈالا تھا۔ امام بیہقی نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عام الرمادہ کے موقع پر متاثرین کے درمیان سب کچھ خرچ کر دیا اور جب بارش ہوگئی اور لوگ اپنے گھروں کو واپس ہونے لگے تو عمر رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہو کر حالات کا جائزہ لینے باہر نکلے، آپ نے دیکھا کہ لوگ اپنے بال بچوں کے ساتھ اب کوچ کرنے لگے ہیں، اس وقت آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ بنو محارب بن خصفہ کے ایک آدمی نے آپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ بلا آپ سے ٹل گئی، آپ آزاد خاتون کے سپوت ہیں۔ آپ نے اس سے فرمایا: تیرا ستیاناس ہو! اس (تعریف) کا میں اس وقت حقدار ہوتا جب اپنے مال سے یا اپنے باپ خطاب کے مال سے خرچ کیا ہوتا، میں نے تو اللہ کا مال خرچ کیا ہے۔[1] آپ نے ایک موقع پر فرمایا: اے لوگو! تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ اگر تم سے تمہارا مال میرے ہاتھوں میں آجائے تو وہ اللہ کے راستہ ہی میں خرچ کروں۔ نیز تمہارا مجھ پر یہ بھی حق ہے کہ اگر اللہ چاہے اور توفیق دے تو تمہارے عطیات اور وظائف میں اضافہ کر دوں۔[2] آپ کے عہد میں نہایت منظم شکل میں عطیات ووظائف کی تقسیم شروع ہوگئی تھی اور اس سے استفادہ کرنے والے صرف شہر ہی کے لوگ نہ تھے بلکہ اس کا دائرہ بادیہ نشین قبائل تک وسیع تھا۔ آپ مدینہ سے نکل کر ان بادیہ نشین قبائل تک جاتے اور بذات خود ان میں ان کے عطیات تقسیم کرتے۔ اپنے بعض گورنروں کو آپ نے تحریری حکم بھیجا کہ لوگوں کو ان کے عطیات اور وظائف دیا کرو، جو مال اللہ نے ان کو دیا ہے وہ عمر اور ان کے خاندان کا نہیں ہے، میں صرف اس کا تقسیم کرنے والا ہوں۔[3] آپ نے لوگوں میں صرف عطیات ووظائف کی تقسیم پر اکتفاء نہ کیا بلکہ ان کی خوراک کی بھی کفالت کی، چنانچہ ایک مرتبہ آپ شام تشریف لے گئے تو وہاں بلال بن رباح رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور کہا: اے امیرالمومنین! شام میں آپ کے فوجی کمانڈروں کی خوراک صرف چڑیوں کا گوشت اور عمدہ قسم کی روٹی ہے اور عام مسلمان اسے دیکھ بھی نہیں پاتے۔ آپ نے ان کمانڈروں سے پوچھا کہ بلال کیا کہہ رہے ہیں؟ [1] الولایۃ علی البلدان: ۲/۷۴۔ [2] الولایۃ علی البلدان: ۲/۷۴۔ [3] الوثائق السیاسیۃ للعہد النبوی والخلافۃ الراشدۃ: ص۴۸۶۔ [4] النظم الاسلامیۃ: صبحی الصالح، ص ۴۸۸، ۴۹۱۔ [5] الولایۃ علی البلدان: ۲/۷۷۔ [6] الولایۃ علی البلدان: ۲/۷۷۔ [7] موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: ص۱۳۳۔