کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 534
بعد اس لڑکے کی وفات ہوگئی۔ [1] ابتداء میں گورنر کو اختیار تھا کہ خلیفہ سے اجازت لیے بغیر بھی وہ قصاص میں حد قتل نافذ کر سکتا تھا لیکن بعد میں عمر رضی اللہ عنہ نے تمام گورنران کو فرمان جاری کیا کہ میری اجازت کے بغیر کسی پر حد قتل نافذ نہ کرو۔[2] چنانچہ اس کے بعد گورنران حد قتل نافذ کرنے سے پہلے آپ سے اجازت لے لیا کرتے تھے۔ کیونکہ شرعی حدود قائم کرنے کا تعلق دینی ودنیوی دونوں سے تھا اور جس میں خلفاء اور گورنران سب کو دقت نظری سے کام لینا واجب تھا، اسی وجہ سے وہ لوگ جس طرح دین اسلام کے مختلف شعائر کا اہتمام کرتے تھے اسی طرح اس کا بھی اہتمام کرتے۔[3] ۲: رعایا کے لیے امن وسکون کو یقینی بنانا: ریاستوں میں امن وامان برقراررکھنا گورنران کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ وہ اسے مستحکم ویقینی بنانے کے لیے متعدد وسائل استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ مجرموں، فاسقوں اور فسادیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ان پر شرعی حدود کا نفاذ کرتے ہیں تاکہ عوام کی زندگی اور ان کے املاک کو تباہ کرنے والے جرائم کا انسداد ہو سکے۔[4] آپ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام خط میں لکھا تھا: ’’فاسقوں اور مجرموں کو ڈراؤ اور انہیں ایک ایک ہاتھ اور ایک ایک پاؤں کاٹ کر سزا دو۔‘‘[5] واضح رہے کہ اسلامی ممالک اور شہروں کو امن وسکون بخشنے میں دشمنان اسلام کے خلاف فریضہ جہاد قائم کرنے کا بہت بڑا اثر رہا۔[6] ۳: جہاد فی سبیل اللہ: اگر ہم خلافت صدیقی کے آغاز سے خلافت فاروقی تک کے امراء وگورنران پر ایک سرسری نظر ڈالیں تو فتوحات میں ان کا کردار واضح نظر آتا ہے۔ بلکہ وہ لوگ اپنے امرائے لشکر (فوجی کمانڈروں) کو ان علاقوں کی طرف توجہ دلاتے تھے جو اب تک فتح نہ ہوئے تھے۔ وہ لوگ وہاں جاتے اور اسے فتح کرتے اور پھر اس کی تنظیم وتنسیق کرتے، مثلاً شام کے فوجی کمانڈروں میں ابوعبیدہ، عمرو بن عاص، یزید بن ابوسفیان اور شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم قابل ذکر ہیں۔ جب کہ عراق کے کمانڈروں میں مثنی بن حارثہ، خالد بن ولید اور عیاض بن غنم وغیرہرضی اللہ عنہم ہیں۔[7] خلفائے راشدین کے عہد کے گورنران کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنی ریاستوں کے نظم و نسق [1] الولایۃ علی البلدان: ۲/۶۸۔ [2] الولایۃ علی البلدان: ۲/۶۸۔ [3] موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: ص۱۳۳۔ [4] فتوح البلدان، البلاذری: ص۱۸۲، الولایۃ علی البلدان: ۲/۶۹۔ [5] الأحکام السلطانیۃ: ص۳۳۔