کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 533
اسی شکل میں اس کی حفاظت کے لیے بہت حریص تھے۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احیاء وعمل، بدعات کے خاتمے اور دین الٰہی کے احترام وتقدس کو زندہ رکھنے کے لیے پوری محنت کرتے تھے۔ چنانچہ ایک آدمی جو متشابہات قرآن سے متعلق کافی شکوک وشبہات پیدا کرتا تھا آپ نے اسے جلا وطن کر دینے کا حکم دیا۔[1] جیسا کہ یہ واقعہ تفصیل سے گزر چکا ہے۔ اصول شریعت کی حفاظت کرتے ہوئے آپ نے رمضان میں باجماعت تراویح کی نماز پڑھنے کا عام فرمان پوری اسلامی سلطنت میں جاری کر دیا۔[2] ایک مرتبہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تمہارے یہاں کچھ لوگ ’’یا آل ضبہ‘‘ یعنی ’’ضبہ‘‘ کی دہائی دے کر جاہلیت کی پکار پکارتے ہیں، لہٰذا جب تم کو میرا یہ خط ملے تو انہیں سخت ترین مالی اور جسمانی سزا دو تاکہ اگر وہ نہ بھی سمجھ سکیں تو کم از کم خوفزدہ ہو کر اس سے باز آجائیں۔[3] مساجد کی تعمیر: بعض احصائیات کے مطابق عہد فاروقی میں صرف جزیرئہ عرب کے مختلف شہروں میں تقریباً چار ہزار (۴۰۰۰) مسجدیں تعمیر کی گئیں، آپ کے گورنران نے بھی اپنے اپنے زیر اقتدار مختلف علاقوں میں مساجد تعمیر کیں۔ مثلاً عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے الجزیرہ کے مختلف علاقوں میں بہت ساری مساجد بنوائیں۔[4] مناسک حج کے لیے سہولیات کی فراہمی: عہد خلافت راشدہ کے تمام گورنر اپنی اپنی ریاستوں میں اس بات کے ذمہ دار تھے کہ حجاج کرام کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور ان کے لیے بحفاظت مناسک حج کی ادائیگی یقینی بنائیں۔ چنانچہ وہ لوگ حج کے قافلوں پر امیر مقرر کر دیتے تھے اور ان کے سفر کے لیے وقت کی تعیین بھی کر دیتے جس کی وجہ سے حجاج کرام گورنر کی اجازت کے بعد ہی اپنے شہروں سے کوچ کرتے تھے۔ بعد کے ادوار میں فقہاء نے گورنران کی اہم ذمہ داریوں میں اس بات کو شامل کیا کہ حجاج کرام کی حفاظت وسہولت کو یقینی بنانا ان پر واجب ہے۔ علامہ ماوردی کا قول ہے کہ: ’’حجاج کرام کو اپنی نگرانی میں روانہ کرنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا گورنر کے فرائض منصبی میں داخل ہے۔ اس لیے کہ یہ اسی کی طرف منسوب ہونے والے رفاہی وخیراتی امور کا ایک حصہ ہے۔‘‘[5] شرعی حدود کا قیام: مصر کے گورنرسیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے پر حد نافذ کی اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے خود بھی کوڑے لگا کر اسے سزا دی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی اس سزا کے بعد کچھ ہی دنوں [1] السیاسۃ الشرعیۃ: ص۱۵۰۔ [2] نصیحۃ الملوک، الماوردی: ص۷۲، الولایۃ علی البلدان: ۲/۶۵۔ [3] الطریقۃ الحکمیۃ: ص۲۴۰، الولایۃ علی البلدان: ۲/۶۷۔ [4] نصیحۃ الملوک: ص۷۲۔ [5] الأحکام السلطانیۃ: ص۳۳۔ [6] الولایۃ علی البلدان: ۲/۶۷۔