کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 532
’’لوگو سن لو! اللہ کی قسم میں اپنے گورنروں کو اس لیے نہیں بھیج رہا ہوں کہ تمہاری چمڑیاں ادھیڑیں اور تمہارا مال تم سے چھین لیں۔ بلکہ انہیں اس لیے بھیج رہا ہوں تاکہ تمہیں تمہارے دین کی باتیں اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں بتائیں اور سکھائیں۔‘‘[1] اور آپ اپنے گورنروں سے فرماتے تھے: ’’میں تمہیں مسلمانوں پر ظلم کرنے اور ان کی چمڑی ادھیڑنے کے لیے گورنر نہیں بنا رہا ہوں بلکہ اس لیے یہ ذمہ داری دے رہا ہوں تاکہ انہیں نماز پڑھاؤ اور قرآن سکھاؤ۔‘‘[2] بہرحال آپ نے بہت سارے معلّمین ومبلغین کو مختلف اسلامی شہروں میں بھیجا اور انہوں نے وہاں جا کر مشہور علمی مدارس کی بنیاد ڈالی، جیسا کہ اس کی تفصیل پچھلے مباحث میں گزر چکی ہے۔ اقامت نماز: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے گورنران کے نام خط لکھتے تھے: ’’میرے نزدیک تمہارا سب سے اہم کام اقامت نماز ہے، جس نے اس کی پابندی کی اور دوسروں سے کروائی، اس نے اپنے دین کی حفاظت کی اور جس نے اسے ضائع کر دیا وہ دوسری چیزوں کا زیادہ ہی ضائع کرنے والا ہو گا۔‘‘[3] اسی طرح آپ گورنروں کو لوگوں کی امامت کا تاکیدی حکم دیتے تھے اور ان سے کہتے تھے: ’’میں تم کو گورنر بنا رہا ہوں تاکہ تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ اور انہیں شریعت کا علم اور قرآن سکھاؤ۔‘‘[4] نیز گورنروں کی قرارداد تقرری میں ملکی قوانین کی پابندی کے ساتھ ایک قرارداد یہ بھی ہوتی تھی کہ فلاں نماز اور جنگ کے امیر ہوں گے۔ چنانچہ اسی مناسبت سے ایک قرارداد میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو نماز اور جنگ کا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو محکمہ قضاء اور بیت المال کا امیر بنایا۔[5] جن فقہاء نے اسلامی سیاست پر کتابیں تحریر کی ہیں انہوں نے امیر کے لیے نماز کی اہمیت پر خوب روشنی ڈالی ہے اور اس کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے دینی و دنیوی فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔[6] دین اور اس کے اصول ومبادی کی حفاظت: سیّدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ دین اسلام کے صحیح اصول ومصادر، یعنی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا نزول ہوا تھا [1] أخبار عمر، طنطاویات: ص۳۴۱۔ [2] إعلام الموقعین: ۲/۲۴۸۔ [3] سیرأعلام النبلاء: ۲/۲۴۷۔