کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 531
ہے۔ ان دونوں نے کہا: کیا یہاں کی زمین میں اندرائن کی پیدائش ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، انہوں نے کہا: تو کچھ اندرائن منگوائیں۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں سے اندرائن لانے کو کہا، اور پھر دو بڑی ٹوکریاں بھر کر اندرائن لائی گئی۔ ان دونوں نے ایک ٹوکری سے اندرائن کو نصف نصف دو حصوں میں کر دیا پھر معیقیب رضی اللہ عنہ کو چت لٹا دیا اور معیقیب رضی اللہ عنہ کے ایک ایک پاؤں کو ہاتھ میں پکڑا، پھر پاؤں کے تلووں پر اندرائن کی مالش کرنے لگے، جب ایک ختم ہو جاتی تو دوسری لیتے، پھر انہوں نے معیقیب رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ علاج دیکھ کر تعجب سے کہا: حقیقت میں اس سے اب معیقیب رضی اللہ عنہ کے مرض میں اضافہ نہیں ہو گا۔ راوی کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم اس کے بعد معیقیب رضی اللہ عنہ بالکل ٹھیک ٹھاک رہنے لگے اور ان کی زندگی بھر ان کے اس مرض میں کوئی اضافہ نہ ہوا۔[1] گورنر اور ان کی ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ نے گورنران کو جس طرح بلند مقام ومرتبہ دیا اسی طرح ان کے کندھوں پر ذمہ داریوں کا بھاری بھر کم بوجھ بھی ڈالا ہے۔ چنانچہ ان کے جن اہم فرائض وذمہ داریوں پر سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خاص توجہ دی ان کی تفصیل یوں ہے: ۱: اقامت دین: اقامت دین میں دین اسلام کی نشرواشاعت، اقامت نماز، دین اور اس کے اصول ومصادر کی حفاظت، مساجد کی تعمیر، مناسک حج کی ادائیگی کے لیے سہولیات کی فراہمی اور شرعی حدود کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک سے متعلق قدرے وضاحت سے گفتگو کی جا رہی ہے: دین اسلام کی نشر و اشاعت: سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور عظیم فتوحات کا دور تھا، اس لیے ان حالات کا تقاضا تھا کہ آپ کے گورنر مفتوحہ ممالک میں اپنے ساتھ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تعاون سے دین اسلام کی نشرواشاعت کریں۔ [2]آپ کے دور خلافت میں شام کے گورنر یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے آپ کے نام خط لکھا کہ ’’شام کی آبادی کافی بڑھ گئی ہے، شہروں میں لوگوں کا ہجوم ہے، انہیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو قرآن کی تعلیم اور دین اسلام کی فقہ وبصیرت دے سکیں، آپ ایسے معلّمین کو یہاں بھیج کر ہماری مدد کریں۔‘‘ چنانچہ خط پانے کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے پانچ علماء وممتاز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وہاں بھیجا۔[3] آپ کے بارے میں یہ بات کافی مشہور ہے کہ آپ گورنران کو بھیجتے وقت لوگوں سے بار بار یہ کہتے تھے: [1] الولایۃ علی البلدان: ۲/۶۳۔ [2] الخراج، أبو یوسف: ص۵۰، الولایۃ علی البلدان: ۲/۶۳۔ [3] الولایۃ علی البلدان: ۲/۶۴، الإدارۃ الإسلامیۃ، محمد کرد: ص۴۸۔ [4] الولایۃ علی البلدان: ۲/۶۴۔