کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 527
۲: گورنروں کے لیے خیر خواہی: سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے امیرالمومنین! اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرنا بہتر ہے یا اپنی ذات محفوظ رکھنا؟ آپ نے فرمایا: جو شخص مومنوں کے کسی معاملہ کا ذمہ دار بنے اسے چاہیے کہ اللہ کے (حقوق) کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرے اور جو اس کی طاقت نہ رکھے وہ اپنی ذات پر اکتفا کرے اور اپنے امراء وحکام کی خیر خواہی کرے۔[1] ۳: والیان ریاست تک سچی خبریں پہنچانا: رعایا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے حکام و گورنران کے پاس صحیح اور سچی خبریں پہنچائیں، خواہ اس کا تعلق عوامی امور سے ہو یا ملک دشمنوں سے ہو، یا والی ریاست کے ماتحت افسران وعہدیداران سے ہو۔ نیز ایسی خبریں پہنچانے میں جتنی جلدی ہو سکے کرنی چاہیے۔ خاص طور سے اگر واقعہ کا تعلق جنگی حالات اور ملک دشمنوں سے ہویا ماتحت افسران کی خیانت اور اس جیسے دیگر ایسے معاملات سے ہو، جس کی ذمہ داری کا براہ راست تعلق حاکم وقت سے ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ضروری ہے کہ اسی میں امت مسلمہ کی مصلحت پوشیدہ ہے۔[2] ۴: گورنر کے مؤقف کی تائید کرنا: اگر گورنر کا مؤقف رعایا کے مفاد میں ہو اور خلیفہ کی طرف سے اس کو اولین تائید حاصل ہو تو گورنر کو تقویت دینا اور اس کی تائید کرنا ضروری ہے، سیّدناعمر رضی اللہ عنہ اس پہلو پر کافی زور دیتے تھے، آپ اس بات پر خاص توجہ دیتے تھے کہ رعایا اپنے گورنروں کو محترم سمجھے اور انہیں عزت بخشے، اس مقصد برآری کے لیے آپ مختلف اسباب ووسائل استعمال کرتے تھے، جب کہ گورنران کے ساتھ معاملات میں آپ سخت گیری کا مظاہرہ کرتے تھے، لیکن اگر آپ کو معلوم ہو جاتا کہ کسی رعایا کی طرف سے گورنر پر زیادتی ہوئی ہے یا زیادتی کا شائبہ ہے تو ظالم و گستاخ کا سختی سے مواخذہ کرتے اور اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگوں کے دلوں میں گورنر کا رعب اور اس کی عظمت باقی رہے اور اس کے ذریعہ عوام وخواص کی بے اعتدالیوں کو لگام دی جا سکے۔[3] ۵: امیر کو اجتہاد کا مکمل اختیار ہے: امیر وگورنر کو یہ حق حاصل ہے کہ اجتہادی مسائل ومعاملات میں اجتہاد کرے۔ خاص طور سے اگر ایسے مسائل ہوں جن کے بارے میں شریعت کا کوئی خاص حکم نہ ہو اور اس کی شرعی حد بندی نہ کی گئی ہو یا دیگر ایسے معاملات ہوں کہ جن میں خلیفہ کی طرف سے تصرف کا دائرہ محدود نہ ہو۔سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گورنران میں سے ایک گورنر نے فتح شام کے موقع پر پا پیادہ اور سوار مجاہدین کے حصوں کی تقسیم میں اجتہاد کیا اور آپ نے اس کی موافقت کی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جو ایک گورنر تھے انہوں نے تقریباً سو(۱۰۰) سے زیادہ اجتہادی مسائل میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ [1] تاریخ الیعقوبی: ۲/۱۳۹، ۱۴۰۔ [2] الولایۃ علی البلدان: ۲/۵۵۔ [3] الولایۃ علی البلدان: ۲/۵۶۔ [4] الولایۃ علی البلدان: ۲/۵۶۔