کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 526
میں فاروقی حکم نامہ پوشیدہ رکھا اور خالد رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہ دی، یہاں تک کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے نام عمر رضی اللہ عنہ کا دوسرا خط آیا۔ اس وقت آپ کو واقعہ کی اطلاع ملی اور اطلاع نہ دینے کی وجہ سے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ پر عتاب کیا۔[1] ڈاکٹر عبدالعزیز العمری لکھتے ہیں: ’’پوری بحث وتحقیق کے باوجود والیان ریاست کی تاریخ میں مجھے ایسا کوئی واقعہ نہیں ملا جس میں کسی نومنتخب گورنر نے سابق گورنر کو رسوا کیا ہو یا اس کے خلاف زبان درازی کی ہو، بلکہ عموماً وہ لوگ منصب سنبھالنے کے بعد جو پہلا خطبہ دیتے تھے اس میں اپنے سابق گورنر کی تعریف کرتے تھے۔‘‘[2] گورنروں کے حقوق بے شک گورنروں کے مختلف حقوق ہیں، کچھ کا تعلق رعایا سے ہے اور کچھ کا خلیفہ سے، مزید برآں کچھ ایسے حقوق ہیں جن کا تعلق بیت المال سے ہے۔ بہرحال ان تمام تر مادی اور اخلاقی حقوق کا اولین مقصد گورنران کا تعاون کرنا ہے، تاکہ وہ دین اسلامی کی بخوبی خدمت اور اپنے فرائض کو احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔ ان کے اہم ترین حقوق کچھ اس طرح ہیں: ۱: غیر معصیت کے کاموں میں گورنروں کی اطاعت: اسلامی شریعت نے عوام کے لیے امراء وحکام کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا}(النساء: ۵۹) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اولی الامر کی اطاعت کا واجبی حکم دیتی ہے، گورنر اور امراء وحکام جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات کو نافذ کرنے والے ہیں، انہی اولی الامر میں سے ہیں۔[3]بلاشبہ امراء وحکام اور خلفاء کی اطاعت واجب ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کے موافق ہو، اگر وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں تو ان چیزوں میں ان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔[4] [1] فتوح الشام، ازدی: ص ۱۲۲،۱۲۳۔ [2] الولایۃ علی البلدان: ۲/۵۴۔ [3] الولایۃ علی البلدان: ۲/۵۴۔ [4] فتوح البلدان، بلا ذری: ص۲۱۴۔ [5] الخراج، أبو یوسف: ص۲۲،۲۳۔