کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 521
درحقیقت آپ کی یہ شرائط نہایت حکیمانہ منصوبے پر مشتمل ہیں۔ آپ کے لیے امت مسلمہ کے تمام افراد کو اسلام کے غیر واجبی امور (یعنی زہد و تواضع کی اعلیٰ مثالوں) کا پابند بنانا ناممکن تھا، لیکن آپ اس بات پر ضرور قادر تھے کہ اپنے گورنران، افسران وقائدین کو اس کا پابند کر دیں اور جب یہ ہستیاں زہد و تواضع اور اخلاق کریمانہ کا مظاہرہ کریں گی تو وہی معاشرہ کے لیے نمونہ ہوں گی۔ واقعتا معاشرہ کی اصلاح اور اسے اسباب زوال سے دور رکھنے کے لیے یہ ایک کامیاب منصوبہ بندی تھی۔[1] ۱۱: والیان ریاست کے انتخاب اور ان کی تقرری کے لیے مشورہ: ممتاز و بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لینے کے بعد گورنروں کا انتخاب اور ان کی تقرری ہوئی تھی۔[2] عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ہم نشین صحابہ سے ایک دفعہ کہا: مجھے ایسا آدمی بتاؤ کہ اگر وہ لوگوں میں امیر (حاکم) بن کر رہے، نہ تو امیر معلوم ہو اور جب امیر نہ ہو تو ایسا لگے گویا کہ وہ امیر ہے۔[3] لوگوں نے اس کے لیے ربیع بن زیاد رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا۔[4] ایک مرتبہ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا کہ اہل کوفہ پر کس کو گورنر بنایا جائے۔ آپ کا قول تھا کہ اہل کوفہ اور اپنے امراء کے خلاف ان کے عدم تعاون وبدسلوکیوں کے لیے کون مجھے بچاؤ کا راستہ بتائے گا؟ اگر میں ان پر نرم دل و پاک دامن آدمی کو حاکم بناتا ہوں تو وہ اسے کمزور سمجھتے ہیں (اور اس کی ناقدری کرتے ہیں) اور اگر سخت و قوی آدمی کو بناتا ہوں تو وہ اس کے خلاف بے ہودہ گوئی کرتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: اے لوگو! ان دو آدمیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے جن میں ایک کمزور تو ضرور ہے لیکن تقویٰ شعار مسلمان ہے اور دوسرا طاقتور اور سخت گیر ہے۔ ان دونوں میں امارت (گورنری) کے لیے کون زیادہ مناسب ہے؟ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: امیرالمومنین! کمزور مسلمان کا اسلام اسی کے لیے ہے اور اس کی کمزوری (کا اثر) آپ اور مسلمانوں پر (پڑنے والا) ہے، جبکہ طاقتور اور سخت گیر کی سختی اس کی ذات تک محدود ہے اور اس کی قوت سے آپ کو اور سارے مسلمانوں کو فائدہ پہنچنے والا ہے۔ آپ اپنی رائے سے جو مناسب سمجھیں فیصلہ کریں۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے مغیرہ تم نے سچ کہا اور پھر ان کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور نصیحت کی کہ خیال رکھنا، تم ان لوگوں میں سے بننا جن کے دامن میں ابرار ونیکو کار لوگ امان محسوس کرتے ہیں اور بدکار و فاجر لوگ خوف کھاتے ہیں۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اے امیرالمومنین! میں ایسا ہی کروں گا۔[5] ۱۲: گورنروں کی تقرری سے پہلے ان کا امتحان لینا: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ افسران وگورنران کی تقرری سے پہلے ان کا امتحان لیتے تھے، یہ امتحان کبھی کبھار کافی طویل ہوتا [1] الإدارۃ الإسلامیۃ فی عصر عمر بن الخطاب: ص۲۱۳۔ [2] الإدارۃ الإسلامیۃ فی عصر عمر بن الخطاب: ص۲۱۳۔ [3] الإدارۃ الإسلامیۃ فی عصر عمر بن الخطاب: ص۲۱۵۔ [4] محض الصواب: ۱/۵۱۰۔