کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 520
۷: طالب عہدہ کو عہدہ نہ دینا: آپ کسی ایسے آدمی کو ہرگز عہدہ و گورنری نہیں دیتے تھے جو اس کا طالب ہوتا۔ اس سلسلے میں کہا کرتے تھے: ’’جس نے اس (عہدہ) کا مطالبہ کیا وہ (اللہ) کی مدد سے محروم رہا۔‘‘ آپ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں اسی روش پر قائم تھے۔ ۸: گورنروں کو تجارت کرنے کی ممانعت: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنران و افسران کو تجارت و سوداگری سے منع کرتے تھے، خواہ وہ خریدنے والے ہوں یا فروخت کرنے والے۔[1] آپ کے ایک افسر حارث بن کعب بن وہب کے بارے میں ایک روایت میں وارد ہے کہ ان کی مال داری (بہت جلد) نمایاں ہونے لگی تو آپ نے ان کی مال داری کا سبب انہی سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا: میں کچھ سامان تجارت لایا تھا، اسی کی تجارت کی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سن لو! اللہ کی قسم! میں نے تمہیں تجارت کرنے کے لیے نہیں بھیجا ہے اور پھر آپ نے حاصل کردہ منافع ان سے لے لیا۔[2] ۹: افسران کی تقرری کے وقت ان کی جائداد کی پڑتال: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ گورنران و افسران کی تقرری سے پہلے ان کے اموال وجائداد کی پڑتال کر لیتے تھے، تاکہ عہدہ سنبھالنے کے بعد آمدنی میں غیر معقول زیادتی پر ان کا محاسبہ کر سکیں اور اگر یہ محاسبہ کے وقت مال کی زیادتی کی وجہ بیان کرتا کہ یہ میری تجارت کی آمدنی ہے تو آپ اسے قبول نہ کرتے، ان سے کہتے: ’’میں نے تمہیں گورنر (ذمہ دار) بنا کر بھیجا ہے تاجر بنا کر نہیں بھیجا ہے۔‘‘[3] ۱۰: افسران کی تقرری کے وقت چند شرائط کی پابندی کا معاہدہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب کسی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس سے چند شرائط کی پابندی کا عہد لکھواتے اور انصار صحابہ کی ایک جماعت کو اس پر گواہ بناتے۔ وہ شرائط یہ تھیں کہ غیر عربی النسل گھوڑے پر سوار نہ ہو گے، نہ ہی میدے کی روٹی کھاؤ گے، نہ باریک لباس پہنو گے اور مسلمانوں کی ضروریات کے سامنے اپنے گھر کا دروازہ بند نہیں کرو گے۔ پھر فرماتے: ’’اے اللہ! تو گواہ رہ۔‘‘[4] آپ ان شرائط کی پابندی کا عہد اس لیے لیتے تھے کہ ہمارے عمال زہد وعبادت اور انکساری و تواضع کی زندگی بسر کریں۔ پس امت کی اصلاح و تربیت کا پہلا قدم یہ ہے کہ اسے خورونوش، لباس وپوشاک اور سواری وغیرہ میں اعتدال پسندی کی تعلیم دی جائے، کیونکہ جو زندگی اعتدال پسند ہوگی اس کے معاملات درست ہوں گے۔ [1] مناقب أمیر المومنین، ابن الجوزی: ص۱۵۰۔ [2] الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: ص۳۳۴۔ [3] مناقب عمر بن الخطاب، ابن الجوزی: ص۱۰۸، الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۲۸۔ [4] الفتاوٰی : ۲۸/۱۳۸۔