کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 518
ہے کہ ان صفات کے حاملین میں تفاوت پایا جاتا ہے، لہٰذا ایسے وقت میں ترجیح اسی آدمی کو حاصل ہوگی جو سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق کہنہ مشق اور تجربہ کار صاحب بصیرت ہو۔[1] ۴: دیہاتی اور شہری: عمر رضی اللہ عنہ اپنے افسران کی تقرری کے وقت بعض خصوصیات، طبائع، عادات اور عرف (رواج ومراسم) کو خاص طور سے نگاہ میں رکھتے تھے۔ آپ کی سیاست کا یہ پہلو کافی مشہور ہے کہ بادیہ نشینوں و دیہاتیوں یعنی دیہاتیوں کو شہریوں یعنی متمدن لوگوں کا حاکم وذمہ دار بنانے سے منع کرتے تھے۔[2] گویا موظفین وعہدیداران کی انتخابی سیاست میں معاشرتی اور تہذیبی اقدار و روایات کی ایک ساتھ رعایت کی گئی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ بادیہ نشینوں اور شہریوں کی طبیعتیں، عادات، تہذیبیں اور طرز زندگی مختلف ہوتی ہیں۔ پس فطری تقاضا یہی ہے کہ حاکم اپنی رعایا کی نفسیات سے واقف ہو۔ یہ بالکل نا انصافی ہے کہ رعایا کے معاملات ایسے آدمی کے ہاتھ میں دیے جائیں جو ان سے بالکل ناواقف ہو۔ کیونکہ وہ بسا اوقات اصطلاحات اور عرف سے ناواقفیت کی وجہ سے ایک معروف شے کو منکر قرار دے سکتا ہے۔ اسی طرح بعض فطری امر طبعی امر کو انوکھا تصور کر سکتا ہے اور پھر اس کا انجام معاشرہ وسماج کے مطلوبہ اہداف ومقاصد کے خلاف ہو جائے گا۔[3] ۵: رعایا پر شفقت ومہربانی: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ اپنے ماتحت ذمہ داروں اور گورنروں سے اس بات کے خواہاں رہتے تھے کہ وہ اپنی رعایا پر شفقت ومہربانی کریں، بے شمار مواقع پر آپ نے اسلامی افواج کے قائدین کو حکم دیا کہ مسلمانوں (مجاہدین) کو خطرے کا نشانہ نہ بننے دیں اور انہیں تباہی وہلاکت میں نہ ڈالیں۔ آپ ایک مرتبہ بنو اسلم کے ایک آدمی کو خط لکھ کر اس سے ایک کام لینا چاہتے تھے وہ آدمی آپ کے پاس آیا اور آپ کے بعض بچے آپ کی گود میں موجود تھے، آپ ان کو پیار و محبت سے بوسہ دے رہے تھے، اس آدمی نے یہ منظر دیکھ کر (تعجب سے) کہا: اے امیرالمومنین! آپ ایسا کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں نے آج تک کسی اولاد کو بوسہ نہیں دیا۔ تو آپ نے فرمایا: پھر تو اللہ کی قسم تیرے اندر لوگوں پر رحمت ومہربانی کا جذبہ بہت کم ہو گا، جاؤ تم ہمارے کام کے نہیں ہو، پھر آپ نے اسے واپس لوٹا دیا اور کام نہیں دیا۔[4] اسی طرح ایک مرتبہ آپ کی بعض اسلامی افواج نے جب بلاد فارس پر حملہ کیا تو فاتحانہ کارروائیوں میں وہ افواج ایک ایسی نہر تک پہنچ گئیں جس پر پل نہ تھا، فوج کے امیر نے اپنے ایک فوجی سے کہا کہ دریا میں اتر کر اس [1] تاریخ الطبری: ۵/۳۹۔ [2] الفتاوٰی: ۲۸/۴۲۔ [3] نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: ۱/۴۷۹۔ [4] المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام: ۲/۵۶۔ [5] نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: ۱/۴۸۲۔