کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 517
جواب دیا: نہیں، بلکہ میں جس طرح چاہتا تھا تم اسی طرح ہو، لیکن میں (اس منصب کے لیے) قوی ترین آدمی کو چاہتا ہوں۔ [1] اس سلسلے میں آپ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی کیا ہی بہترین بات ہے: ’’اے اللہ! تجھ سے میری التجا ہے کہ فاجر کو قوت نہ دے اور امانت دار وثقہ آدمی کو عجز (کمزوری) نہ دے۔‘‘[2] ۲: تقرری میں علم کی اہمیت: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے تمام تر مناصب کے بالمقابل خاص طور سے اسلامی افواج کے امراء وقائدین کی تقرری میں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کی۔ امام طبری فرماتے ہیں کہ جب اسلامی فوج عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوتی تو آپ اس پر ایک عالم دین اور شرعی بصیرت رکھنے والے آدمی کو مقرر کر دیتے۔[3] ۳: تجربہ کاری اور بصیرت: سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سرکاری عہدوں کے لیے صاحب فضیلت افراد کو چھوڑ کر ایسے افراد کو افسر بناتے تھے جو تجربہ کار اور بصیرت کے حامل ہوں۔[4]صاحب فضیلت افراد کو چھوڑنے سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ اگرچہ دین داری، تقویٰ و طہارت اور اخلاق وکردار میں افضل و مقدم ہوں، لیکن معاملات کی سیاست میں دوسروں کے بالمقابل ان کی مہارت کم ہو۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ دونوں چیزیں (تقویٰ وطہارت اور حسن سیاست) ایک آدمی میں بدرجہ اتم ہی پائی جائیں۔ سیّدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وضع کردہ یہ معیار انتخاب آج بھی ترقی یافتہ ممالک میں معتبر و معمول بہ ہے اور یہ برحق ہے کہ دین پرست، متقی اور بااخلاق آدمی کو اگر سیاست اور حکومتی معاملات میں بصیرت نہ ہو تو وہ نفس پرستوں اور گمراہوں کے دھوکے میں آسکتا ہے، لیکن کہنہ مشق اور تجربہ کار صاحب بصیرت شخص کی دور اندیش نگاہیں فوراً الفاظ کے معانی اور ان کے مقاصد وانجام کو بھانپ لیتی ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ آپ نے ایسے ہی ایک آدمی کو ذمہ دار بنانے کا ارادہ کیا اور پھر اپنا فیصلہ اس لیے بدل لیا کہ وہ برائیوں کو قطعاً نہیں جانتا تھا۔ واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ آپ ایک آدمی کو کسی ذمہ داری پر مامور کرنا چاہتے تھے، اس کے بارے میں لوگوں سے معلومات حاصل کیں، چنانچہ آپ کو بتایا گیا کہ اے امیرالمومنین! وہ آدمی برائی جانتا ہی نہیں۔ (یعنی اس کی تعریف کی)سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہنے والے سے کہا: پھر تو ستیاناس ہے، عین ممکن ہے کہ (لا علمی میں) وہ اس کو کر گزرے۔[5] بہرحال اس واقعہ کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ کسی شعبہ کا ذمہ دار یا افسر قوت، امانت، علم اور اہلیت وصلاحیت جیسی اعلیٰ صفات وکردار جو کسی بہترین حکومت اور ادارہ کے لیے ضروری ہیں ان سے عاری ہو، بلکہ اس کا مقصد یہ [1] وقائع ندوۃ النظم الإسلامیۃ: ۱/۲۹۵، ۲۹۶۔ [2] دورالحجاز فی الحیاۃ السیاسیۃ: ص: ۲۵۵۔ [3] الفتاوٰی : ۲۸/۴۲۔ [4] الفتاویٰ : ۲۸/۱۳۸۔