کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 513
بہرحال ذمہ داریوں کی اس تقسیم کے بعد ہر ایک نے اپنے فرض کو نبھایا، عمار رضی اللہ عنہ نماز کی امامت کرتے رہے، صوبائی انتظام و انصرام کے ساتھ اسلامی افواج کی قیادت کرتے رہے اور بعض فتوحات میں خود شریک بھی ہوئے۔ آپ کی گورنری کے دور میں اہل کوفہ نے اہل فارس کی مسلم مخالف افواج سے کئی ایک مرتبہ ٹکر لی اور غلبہ پایا، اس طرح عمار رضی اللہ عنہ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی رہنمائی کے مطابق جنگی احوال وظروف کی رعایت کرتے ہوئے اپنی ریاست میں سیاست کرتے رہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تعاون سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے، جبکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ مالیاتی نظام کی مکمل دیکھ بھال کے ساتھ لوگوں کو قرآن اور اسلام کی تعلیمات بھی دیتے تھے۔[1] کوفہ پر عمار رضی اللہ عنہ کی گورنری کا دور تقریباً ایک سال نو مہینے ہے۔ اس کے بعد عمار رضی اللہ عنہ کے خلاف اہل کوفہ کی شکایات کے پیش نظر عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو گورنری سے معزول کر دیا۔ اسی مناسبت سے عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ عمار رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا معزولی تم کو بری لگی؟ تو عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’جب آپ نے مجھے گورنر بنایا تھا تب مجھے کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی البتہ جب آپ نے مجھے معزول کر دیا تو مجھے ناگوار گزرا۔‘‘ اور ایک روایت کے مطابق آپ نے دوسرے لفظوں میں اس طرح جواب دیا: ’’جب آپ نے مجھے گورنری دی تو اس سے مجھے خوشی نہیں ہوئی اور جب آپ نے مجھے معزول کر دیا تو مجھے اس پر کوئی رنج بھی نہیں ہوا۔‘‘[2] اور بعض تاریخی مصادر میں ہے کہ جب عمار رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ اہل کوفہ میری امارت کو ناپسند کرنے لگے ہیں تو خود ہی عمر رضی اللہ عنہ کو منصب ولایت سے استعفیٰ پیش کیا۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے استعفیٰ قبول کر لیا اور ان کو خود معزول نہیں کیا۔[3]عمار رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا لیکن ان کے کوفہ جانے سے پہلے ہی اس حکم کو منسوخ کر دیا، اس لیے کہ آپ نے ان سے کہا تھا کہ اپنے گورنر مقرر کیے جانے کی خبر دوسروں کو نہیں دیں گے، لیکن انہوں نے یہ راز فاش کر دیا اور جب لوگوں میں یہ خبر پھیل گئی تو عمر رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اپنا فیصلہ منسوخ کر دیا۔ پھر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنایا اور وہی عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام تک وہاں کے گورنر رہے۔[4] مدائن: مدائن کسریٰ کا دارالحکومت تھا، اسے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فتح کیا تھا اور عرصہ دراز تک آپ وہاں [1] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۲۳۔ [2] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۲۳۔