کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 512
صواب دید پر اپنا نائب گورنر بھیجتے۔ کوفہ کے دانشور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بہت خوش ہوئے اور ان کی تعریف کی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے کسی معروف و مشہور آدمی سے سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے جواب دیا: خراج وغیرہ کی وصولی میں متواضع ہیں، بہادری وسبک روی میں خالص عربی ہیں، رعب و دبدبہ میں شیر ہیں، نزاعی معاملات میں عدل سے کام لیتے ہیں، تقسیم میں مساوات و عدل کرتے ہیں، فوج کو روانہ کرتے ہیں اور مشفق ماں کی طرح ان پر شفقت کرتے ہیں اور ہمارے لیے چیونٹیوں کی طرح جمع کرتے ہیں۔[1] اسی طرح آپ نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ان کی ولایت کے بارے میں استفسار کیا تو جریر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’میں ان کو ان کی ریاست میں اس حال میں دیکھ کر آرہا ہوں کہ قدرت وصلاحیت میں سب سے فائق، سب سے کم سختی کرنے والے اور رعایا کے لیے مشفق ماں کی طرح ہیں، لو گوں کے لیے مال واسباب اسی طرح جمع کرتے ہیں جس طرح چیونٹیاں جمع کرتی ہیں۔ دشمن سے مقابلہ کے وقت انتہائی سخت اور لوگوں کی نگاہوں میں قریش کے محبوب ترین فرد ہیں۔‘‘[2] باوجودیکہ کوفہ کے شرفاء و دانشور سعد رضی اللہ عنہ سے بالکل مطمئن اور ان کے مداح تھے، تاہم بعض عوام نے آپ کے خلاف عمر سے شکایت کی، جس کی بنا پر امیرالمومنین نے آپ کو معزول کر دیا۔ ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں ’’گورنروں کے خلاف شکایات‘‘ کے زیر عنوان اس کا تفصیلی بیان آئے گا۔ کوفہ سے سیّدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی معزولی کے بعد عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو اہل کوفہ کی امامت (نماز) کی ذمہ داری دے کر وہاں بھیجا۔ واضح رہے کہ عمار رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں کوفہ کے فوجی جرنیلوں میں سے ایک جرنیل تھے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنی گورنری کے دور میں بہت سارے معاملات میں ان سے تعاون لیتے رہتے تھے۔ اسی لیے منصب ولایت پر سرفراز ہونے سے پہلے ہی آپ کو گورنری کے بارے میں کافی معلومات ومہارت تھی۔ اس مقام پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعد اور عمار رضی اللہ عنہما کے منصبی اختیارات میں کافی فرق تھا، مثلاً عمر رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر نامزد کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کو بھی ذمہ داریاں دے کر آپ کے ساتھ دیا تاکہ وہ لوگ الگ الگ اپنے کام سنبھالیں۔ چنانچہ عمار رضی اللہ عنہ نماز کی امامت پر، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیت المال پر اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ زمین کی پیمائش (بندوبست) پر مامور تھے۔ (جبکہ سعد کے دور میں یہ تقسیم بالکل نہ تھی) اسی لیے دونوں کی گورنری کے حالات بہت حد تک مختلف نظر آتے ہیں۔ صوبائی سطح پر ذمہ داریوں کی اس جدید تقسیم کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ [1] مناقب عمر، ابن الجوزی: ص۱۳۰۔ [2] کتاب کا پورا نام ’’الوثائق السیاسیۃ للعہد النبوی والخلافۃ الراشدۃ‘‘ ہے۔ اردو زبان میں ان خطوط کو مولانا محمد تقی امینی نے کتابی شکل میں ’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سرکاری خطوط‘‘ کے نام سے جمع کیا ہے۔ (مترجم) [3] سیر اعلام النبلاء: ۲/۳۸۹۔ [4] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۲۰۔ [5] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۲۰۔ [6] فتوح البلدان: ص۱۳۹، تاریخ الیعقوبی: ۲/۱۵۱۔