کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 511
تاکہ خوب موٹا ہو جائے، حالانکہ اس کے موٹاپے ہی میں اس کی موت ہوتی ہے۔‘‘[1] سیّدناعمر فاروق اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے مابین کئی ایسے رسائل کا بھی تبادلہ ہوا جن میں مختلف اداری وتنفیذی امور پر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو توجہ دلائی گئی تھی اور آپ انہیں بخوبی انجام دیتے تھے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ان خطوط کو اپنی قیمتی کتاب ’’الوثائق السیاسیہ‘‘ میں جمع کیا ہے۔[2] بصرہ پر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی گورنری کا دور سب سے بہتر شمار ہوتا ہے، اس دور کی خوبیوں کو حسن بصری رحمہ اللہ نے سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بصرہ والوں کے لیے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے بڑا خیر خواہ کوئی امیر نہیں۔‘‘[3] ان کی بھلائیوں کی یہ شہادت بالکل سچ ہے کیونکہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بصرہ کے گورنر ہوتے ہوئے وہاں کے معلم قرآن بھی تھے، آپ وہاں کے باشندوں کو قرآن اور دین اسلام کی تعلیمات دیتے تھے۔[4] سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں فارس کے کئی مفتوحہ شہر بصرہ ہی کے تابع تھے اور بصرہ کا حاکم ہی وہاں اپنے افسران کو بھیجتا تھا اور وہ سب بصرہ ہی سے مربوط ہوتے تھے۔ اس طرح ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ، عمر رضی اللہ عنہ کے گورنروں میں سب سے اہم گورنر شمار کیے گئے اور ان کے خطوط سیرت فاروقی کے مختلف گوشوں کو نکھارنے اور گورنروں کے ساتھ فاروقی برتاؤ کو واضح کرنے والے مصادر میں اہم مصدر قرار پائے۔[5] کوفہ: کوفہ کی آبادکاری مکمل ہو جانے کے بعد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وہاں کے پہلے گورنر مقرر ہوئے، درحقیقت سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آپ ہی نے سب سے پہلے شہر کوفہ کو آباد کیا تھا اور آپ کوفہ کی آبادکاری سے پہلے ہی وہاں اور اس کے قرب وجوار کے علاقوں کے گورنر تھے، آپ بحسن وخوبی منصب ولایت کے فرائض ادا کرتے رہے اور جب گورنر کی حیثیت سے کوفہ ہی آپ کی جائے سکونت ٹھہری تو بلاد فارس کے علاقوں میں آپ کی عظیم فتوحات کا سلسلہ جاری ہوگیا۔[6] آپ نے اپنی ریاست میں کئی زرعی اصلاحات نافذ کیں، انہی میں سے ایک یہ تھا کہ جاگیرداروں کی ایک جماعت نے آپ سے اپنے علاقے کے کاشتکاروں کے لیے نہر کھودنے کا مطالبہ کیا، چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے متعلقہ شعبہ کے افسران کو نہر کھودنے کا حکم دیا، پھر اس کے لیے مال جمع کیا گیا اور نہر کھودی گئی۔ آپ کوفہ کے زیر نگرانی علاقوں کے تمام امور ومعاملات کو خود منظم کرتے تھے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے صلاح ومشورہ کے بعد وہاں اپنی [1] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۱۵۔ [2] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۱۵۔