کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 51
مذکور روایات کے مطابق آپ کے قبولِ اسلام اور اس کے اعلان کو درج ذیل عناوین میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ: قریش کے لوگ اکٹھے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں مشورہ کیا، انہوں نے کہا: محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کون قتل کرے گا؟ عمر بن خطاب نے کہا: میں یہ کام کروں گا۔ انہوں نے کہا: اے عمر! تمہی اس کے لیے موزوں ہو۔ وہ سخت گرمی کے دن میں، ٹھیک دوپہر کے وقت گردن میں تلوار لٹکائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کچھ ساتھیوں کو قتل کرنے کے لیے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں ابوبکر، علی اور حمزہ رضی اللہ عنہم اور دیگر حضرات تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں رہ گئے تھے اور حبشہ ہجرت نہیں کی تھی۔ قریش نے عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تھا کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھی صفا پہاڑی کے نیچے دار ارقم میں جمع ہیں۔ راستہ میں نعیم بن عبداللہ النحّام رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، تو انہوں نے کہا: اے عمر کہاں کا ارادہ ہے؟ آپ نے کہا: میں اس صابی (دین بدل دینے والے) کے پاس جا رہا ہوں جس نے قریش کی جمعیت کو پارہ پارہ کر دیا ہے، اس کے دیدہ وروں کو بے وقوف کہا ہے، ان کے دین میں عیب لگایااور ان کے معبودوں کو گالی دی ہے، تاکہ اسے قتل کردوں۔ نعیم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! تم کتنے غلط راستہ پر چل رہے ہو، اللہ کی قسم تم کو خود تمہاری ذات نے دھوکہ دیا ہے، تم انتہا پسندی کے شکار ہوگئے ہو اور بنو عدی کو برباد کرنا چاہتے ہو۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دو گے اور بنو عبد مناف تم کو زمین پر آزاد چھوڑ دیں گے؟ اس طرح دونوں آپس میں بحث کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا گمان ہے کہ تو بھی صابی (دین بدل دینے والا) ہوگیا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو تجھ ہی سے شروع کروں گا۔ جب نعیم رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ باز آنے والے نہیں تو کہا: میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ تمہارے خاندان اور تمہارے بہنوئی کے گھر والے بھی مسلمان ہوچکے ہیں اور جس گمراہی پر تم ہو اس کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی تو پوچھا کہ وہ کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا: تمہارے بہنوئی وچچیرے بھائی اور تمہاری بہن۔ [1] اپنی بہن فاطمہ بنت خطاب کے گھر پہنچنا اور ان کا بھائی کے سامنے ثابت قدم رہنا: عمر بن خطاب نے جب سنا کہ ان کی بہن اور بہنوئی اسلام لے آئے ہیں تو آپ کو سخت غصہ آیا اور ان کے پاس پہنچے۔ جب گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو انہوں نے پوچھا: کون؟ آپ نے کہا: ابن خطاب۔ وہ لوگ اپنے ہاتھوں [1] صحیح السنن الترمذی؍ البانی، حدیث نمبر: ۲۹۰۷ ۔ الجامع الترمذی، حدیث نمبر:۳۶۸۲۔ [2] البخاری، حدیث نمبر: ۳۸۶۶ [3] صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق، ص:۲۳ مصنف نے ان تمام روایتوں کو ذکر کیا ہے جن میں آپ کے اسلام لانے کا واقعہ ذکر ہے اور ان کی تخریج کرنے کے ساتھ ساتھ اسناد پر حکم بھی لگایا ہے۔