کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 509
ابوعبید ثقفی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد قیادت کی باگ ڈور پھر مثنی رضی اللہ عنہ نے سنبھالی اور ان کے بعد عراقی افواج کی قیادت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں رہی۔ مثنی رضی اللہ عنہ کو معرکہ ’’جسر‘‘ کے موقع پر جو زخم لگا تھا وہ ناسور بن گیا تھا جس کی وجہ سے آپ سخت بیماری میں مبتلا ہوگئے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے عراق پہنچنے سے پہلے ہی آپ کی وفات ہوگئی۔[1] معرکہ قادسیہ سے کچھ ہی دنوں پہلے واقعات وحوادث کے اسٹیج پر بصرہ ایک صوبہ کی حیثیت سے ظاہر ہونے لگا تھا، لیکن قادسیہ کی فتح اور مسلمانوں کے ہاتھوں سقوط مدائن نے بلاد عراق کی تنظیم میں ایک جدید و قوی مرحلے کا آغاز کر دیا اور اس میں منظم طور پر ریاستوں کی تشکیل جدید شروع ہوگئی اور تشکیل جدید کے بعد ان ریاستوں میں تمام تر صوبائی علامتیں نمایاں طور پر نظر آنے لگیں خواہ وہ بصرہ کی ریاست ہو یا کوفہ کی یا ان دونوں کے زیر نگیں عراق وفارس کے دیگر علاقے، یا ان سب سے الگ فارس کی کوئی دوسری مستقل ریاست ہو۔[2] بصرہ: سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بصرہ کی آباد کاری سے قبل اس کے اطراف وجوانب میں بنو سعد بن بکر کے ایک فرد شریح بن عامر رضی اللہ عنہ کو قطبہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے روانہ کیا تھا، پھر انہی کو بصرہ کے اطراف وجوانب کا گورنر بنا دیا تھا، وہ کسی مجاہدانہ کارروائی میں شہید ہوگئے۔[3] شریح رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کو ایک فوجی لشکر کے ساتھ وہاں کا امیر بنا کر انہیں روانہ کیا، یہ واقعہ ۱۴ہجری کا ہے، نہ کہ ۱۶ہجری کا، جبکہ صالح احمد العلی ۱۴ ہجری کو راجح قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ معرکۂ قادسیہ یا جلولاء کے بعد ۱۶ہجری میں بصرہ کے مضافاتی علاقوں کے گورنر بنا کر بھیجے گئے، لیکن جمہور مؤرخین اسی بات کے قائل ہیں کہ وہ ۱۴ ہجری میں بھیجے گئے تھے اور اسی وجہ سے ہم جمہور کی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘[4] بصرہ کی عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کی ولایت کا دور درحقیقت بصرہ کی تاسیس اور اس کی زندگی میں ترقی کی روح پھونکنے کا دور تھا، اس میں بہت سارے مقدس وعظیم کارنامے سامنے آئے اور اسی دور میں دجلہ وفرات کے ساحل پر بلاد فارس کے کئی علاقوں میں آپ کی فاتحانہ معرکہ آرائیاں بھی ہیں۔[5] حج کے موسم میں عتبہ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو منصب ولایت سے استعفیٰ نامہ پیش کیا، لیکن آپ نے ان کا استعفیٰ [1] الولایۃ علی البلدان: ۱/۹۳۔ [2] تاریخ خلیفہ بن خیاط : ص ۱۵۵۔ سیر أعلام النبلاء: ۴/۸۸۔ [3] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۰۲۔ [4] الولایۃ علی البلدان: ۱/۱۰۸۔ [5] البدایۃ والنہایۃ: ۷/ ۲۸۔