کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 50
(( اللّٰہم أعز الاسلام بأحب الرجلین إلیک: بأبی جہل بن ہشام أو بعمر بن الخطاب۔)) ’’اے اللہ ابوجہل بن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے جو تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعہ سے اسلام کو غالب کردے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ کے نزدیک ان دونوں میں سے عمر زیادہ پسندیدہ تھے۔‘‘ [1] اللہ تعالیٰ نے عمر ( رضی اللہ عنہ ) کے قبولِ اسلام کے لیے اسباب مہیا کیے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: میں نے عمر کو اگر کبھی کسی چیز کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ ’’میرے خیال میں یہ ایسے ہوگا‘‘ تو وہ ان کے خیال کے مطابق ہی ہوا۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے سامنے سے ایک خوبصورت آدمی گزرا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے گمان نے خطا کی یا یہ شخص اپنے دور جاہلیت کے دین پر اب بھی قائم ہے، یا ان کے کاہنوں میں سے رہا ہے۔ آدمی کو میرے پاس بلاؤ، اس کو بلایا گیا۔ آپ نے اس سے وہی (گمان والی) بات دہرائی۔ اس پر اس نے کہا: میں نے تو آج کے دن کا سا معاملہ کبھی نہیں دیکھا جو کسی مسلمان کو پیش آیا ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے اپنے بارے میں ضرور بتاؤ۔ اس آدمی نے کہا: میں زمانۂ جاہلیت میں کاہن تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ : تمہاری جنّیہ نے تمہیں کون سی تعجب خیز خبر دی؟ آدمی: ایک دن جب میں بازار میں تھا، وہ میرے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور کہا: کیا تم نے جنوں کو ، آسمان سے اوندھے منھ لوٹائے جانے کے بعد ان کی مایوسی اور خوف سے اونٹنیوں اور ان کے پالان سے چمٹ جانے کو نہیں دیکھا؟ عمر رضی اللہ عنہ : …سچ ہے، میں ان کے معبودوں کے پاس سویا ہوا تھا، ایک آدمی بچھڑا لے کر آیا اور اس کو ذبح کیا۔ اس نے زور کی چیخ ماری، ایسی چیخ کہ اس سے تیز آواز میں نے کبھی نہ سنی تھی، وہ کہہ رہا تھا: اے دشمن! معاملہ کامیابی کا ہے۔ آدمی فصیح اللسان ہے، وہ کہتا ہے: ’’ لا الٰہ الا اللّٰه ‘‘ پھر میں کھڑا ہوگیا، اور کچھ ہی لمحہ ٹھہرے تھے کہ کہا گیا : یہ نبی ہیں۔[2] آپ کے قبول اسلام کے بارے میں بہت سی روایتیں وارد ہیں، لیکن فن حدیث کے معیار کے مطابق ان کی اسناد کی تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر صحیح نہیں ہیں۔ [3] تاہم سیرت وتاریخ کی کتابوں میں [1] اخبار عمر، الطنطاویات، ص: ۱۲ [2] سیرت ابن ہشام: ۱/۲۱۶، فضائل الصحابۃ؍ احمد بن حنبل: ۱/ ۳۴۱ [3] الفاروق عمر، ص: ۹