کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 494
۱: مردار جانور کا چمڑا دباغت دینے سے پاک ہوجائے گا، بشرطیکہ وہ زندگی کی حالت میں پاک جانوروں میں سے رہا ہو۔ ۲: لومڑی کے چمڑے میں نماز ادا کرنا حرام ہے۔ ۳: سورج ڈھلنے کے بعد روزے دار کے لیے مسواک کرنا حرام نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔ ۴: دونوں موزوں یا ان کے قائم مقام چیزوں پر مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین رات مسح کرنا جائز ہے۔ ۵: موزوں پر سابقہ مسح کی مدت ختم ہونے اور مسح جدید کی مدت کے آغاز کا اعتبار حدث (وضو ٹوٹنے) کے بعد سے ہوگا۔ ۶: سورج ڈھلنے کے بعد جمعہ کا وقت شروع ہوگا۔ ۷: شرم گاہ چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۸: عید الاضحی کی تکبیر کا وقت عرفہ کے دن فجر سے شروع ہوتا ہے اور ایام تشریق کے آخری دن عصر کے وقت ختم ہوتا ہے۔ ۹: ابوبکر اور عمر دونوں کے نزدیک جنازہ کے آگے آگے چلنا افضل ہے۔ ۱۰: بچے اور جوان پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ ۱۱: بیع وشراء میں بائع ومشتری کو عقد بیع فسخ کرنے یا نافذ کرنے کا اختیار ہے، بشرطیکہ ابھی مجلس ختم نہ ہوئی ہو۔ ۱۲: حیوانات میں بیع سلم جائز ہے۔ [1] ۱۳: مرتہن اگر یہ شرط لگائے کہ وقت پورا ہوجانے پر اگر قرض کی ادائیگی نہ ہوئی تو قرض کے بدلے رہن رکھا ہوا مال مرتہن کا ہوجائے گا، تو یہ شرط فاسد ہے۔ ۱۴: اگر قرض خواہ مفلس [2] کے پاس قرض میں دیا ہوا اپنا مال پائے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ ۱۵: بچی اگر بالغ ہوجائے تو بوجہ بلوغت اسے اس کا مال نہیں دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ شادی کرلے، یا اسے ولادت ہوجائے، یا شوہر کے گھر میں ایک سال کی مدت گزر جائے۔ ۱۶: اگر کوئی شخص چوپائے کی آنکھ پھوڑ دے تو وہ جانور کی قیمت کا چوتھائی حصہ (۴/۱) اس کے مالک کو ادا کرے گا۔ ۱۷: شفعہ صرف مشترکہ ملکیت میں جائز ہے، صرف پڑوسی ہونا شفعہ کے وجوب کے لیے کافی نہیں ہے۔ [1] صحیح مسلم مع النووی: ۹/ ۱۸۴، ۱۸۵۔ [2] صحیح مسلم، النکاح، حدیث نمبر: ۲۱؍۱۴۰۶۔ [3] صحیح مسلم، النکاح: ۲/ ۱۰۲۷، حدیث نمبر: ۳؍ ۱۴۰۷۔ [4] القضاء فی عہد عمر بن الخطاب: ۲/ ۷۵۶۔