کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 493
(( مَنْ کَانَ عِنْدَہٗ شَیْئٌ مِنْ ہٰذِہِ النِّسَائِ الَّتِیْ یَتَمَنَّعُ فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَہَا۔)) [1] ’’جس کے پاس نکاح متعہ کی کوئی عورت ہو وہ اسے چھوڑ دے۔‘‘ ۳: امام مسلم نے اپنی ہی سند سے سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( یَا اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ قَدْ کُنْتُ اَذِنْتُ لَکُمْ فِی الْاِسْتَمْتَاعِ مِنَ النِّسَائِ وَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ ذٰلِکَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَمَنْ کَانَ عِنْدَہٗ شَیْئٌ فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَہٗ وَلَا تَأْخُذُوْا مِمَّا آتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا۔)) [2] ’’اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، (لیکن اب) بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لیے حرام کردیا ہے۔ لہٰذا جس کے پاس اس طرح کی کوئی (عورت) ہو تو اسے چاہیے کہ چھوڑ دے اور جو کچھ تم نے ان کو (عوض میں) دے دیا ہے اسے واپس نہ لو۔‘‘ ۴: امام مسلم نے اپنی سند سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں سنا کہ وہ عورتوں سے متعہ کرنے کے بارے میں نرم رویہ اپناتے ہیں، تو ان سے کہا: اے ابن عباس! اس سے باز آجاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر اس سے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ [3] خلاصۂ کلام یہ کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے من مانے طریقے سے نکاح متعہ کو حرام نہیں قرار دیا تھا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کی تھی، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۸ھ فتح مکہ کے موقع پر اسے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا۔ دراصل ۷ھ میں اسے غزوۂ خیبر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا تھا، لیکن فتح مکہ کے موقع پر پندرہ دنوں کے لیے اس کی دوبارہ اجازت دی تھی اور اس کے بعد ہمیشہ کے لیے اسے حرام قرار دے دیا۔ [4] عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی چند فقہی ترجیحات: محکمۂ قضا میں قصاص، حدود، انسداد جرائم، اور تعزیرات (تادیبی سزاؤں) کے باب میں سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے مخصوص اجتہادی نقوش ہیں۔ اسی طرح فقہ اسلامی کی نشوونما میں آپ کی وسعت علمی، دینی فقہ کی گہرائی اور اسلامی اسرار ومقاصد کی واقفیت پر مبنی آپ کے فقہی اجتہادات کا بڑا اثر ہے۔ یوں تو اسلامی فقہ میں جن مسائل میں آپ کی ذاتی ترجیحات ہیں ان کی تعداد کافی ہے، لیکن یہاں صرف چند مسائل کا ذکر کیا جا رہا ہے: [1] صحیح مسلم، الحج، حدیث نمبر: ۱۲۱۷۔ [2] الأوائل: ۱/ ۲۳۸، ۲۳۹۔ [3] أشہر مشاہیر الإسلام: ۲/ ۴۳۲۔ القضاء فی عہد عمر بن الخطاب: ۲/ ۷۵۶۔ [4] ’’اوطاس‘‘ طائف کی ایک وادی کا نام ہے، معرکہ اوطاس اور فتح مکہ ایک ہی سال یعنی ۸ھ میں پیش آیا۔ شرح النووی علی الصحیح مسلم: ۹/ ۱۸۴۔ [5] صحیح مسلم، النکاح، نکاح المتعۃ وبیان انہ ابیح ثم نسخ ثم ابیح ثم نسخ واستقر تحریمہ الی یوم القیامۃ: ۲/ ۱۰۳۳، رقم الحدیث: ۱۸؍۱۴۰۵۔ [6] مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ وہ (ساتھی) تھوڑا بدشکل بھی تھا۔