کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 487
اس واقعہ سے یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا عمل قیاس اولیٰ پر مبنی تھا، اس لیے کہ پڑوسی کو اپنے پڑوسی کے لیے لکڑی گاڑنے سے روکنے کی ممانعت میں اگرچہ جس کی دیوار میں لکڑی گاڑی جا رہی ہے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے، جب کہ پانی کی نالی گزرنے کی صورت میں نقصان نہ ہونے کے ساتھ ساتھ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس لیے آپ نے قیاس اولیٰ پر عمل کیا۔ چنانچہ ہمارے دور کے ایک ماہر عالم احمد ابراہیم کا یہی خیال ہے کہ اس قضیہ میں عمر رضی اللہ عنہ نے موجودہ دور میں ’’ضابطۂ فوجداری‘‘ کہے جانے والے اصول کی رو سے فیصلہ دیا۔ [1] عبدالسلام سلیمانی کا خیال ہے کہ یہ واقعہ موجودہ دور کے مغربی عدالتی قانون ’’دفعہ برائے ملکیت کا بے جا استعمال‘‘ کے تحت آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مغربی عدالتی قانون کے وجود میں آنے سے کئی صدیاں پیشتر ہی مسلمان اس اصول کو عملی جامہ پہنا چکے ہیں۔ انہوں نے اسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی گزشتہ حدیث سے سیکھا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث کے حکم کو عام کرتے ہوئے پڑوسی کی ہر ملکیت سے دوسرے ضرورت مند پڑوسی کو فائدہ اٹھانے کا حق دیا، خواہ وہ گھر ہو یا زمین، جب کہ بعض علماء کا خیال ہے کہ بغیر پڑوسی کی اجازت کے اس کی ملکیت کے سامان سے فائدہ اٹھانا درست نہیں ہے۔ مذکورہ واقعہ کے چند پہلو قابل غور اور باعث عبرت ہیں: اس واقعہ کا شمار عمر رضی اللہ عنہ کے قضائی اجتہاد میں ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ فیصلہ آپ نے اس وقت دیا جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے نرمی واخوت کے ساتھ مطالبہ کو پورا نہ کیا اور ضحاک رضی اللہ عنہ نے یہ قضیہ عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں طلب کیا گیا۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ میں اٹکل پچو فیصلہ نہیں دیا، بلکہ معاملہ کی تحقیق کرلی، پیچیدگی کو سمجھ لیا اور متاکد ہوگئے کہ مدعا علیہ اپنے انکاری موقف پر ڈٹا ہوا ہے، حالانکہ اس کی کوئی معقول وجہ اور کوئی نقصان نہیں ہے، بلکہ اس کا فائدہ ہی ہے اور اس میں دونوں کا مفاد ہے، ایسی صورت میں مدعا علیہ کی ضد مفاد عامہ کے حق میں رکاوٹ بن کر سامنے آرہی ہے۔ گویا ذاتی ملکیت کا بے جا استعمال ہورہا ہے اور اس کے ساتھ تنگ نظری برتی جا رہی ہے، اس لیے آپ نے سختی کا رویہ اپنایا، آپ امت مسلمہ کے ہر فرد کے افادۂ عام کے لیے قطعاً کسی طرح کی کوتاہی نہیں برتتے تھے۔ سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ کے ساتھ شروع میں نرمی کا برتاؤ کیا، اسلامی بھائی چارگی کے حوالے سے انہیں سمجھایا اور پوری کوشش کی کہ صحیح اور مناسب بات مانی جائے، لیکن جب محمد بن مسلمہ نے اس نرمی کا جواب سختی سے دیا اور اپنی بات پر بضد رہنے کے لیے قسم کھا لی، بالفاظ دیگر انہوں نے خلیفہ کے [1] موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب، ص:۳۷۱۔ [2] الموطأ : ۲/ ۷۴۶۔ اسعاف المبطأ برجال الموطأ، ص: ۶۳۸، ۶۳۹۔ [3] سبل السلام شرح بلوغ المرام: ۳/ ۶۰۔ بخاری ، رقم الحدیث: ۲۴۶۳۔