کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 484
ایک ایسی بستی بھی جلا دی جس میں شراب کی تجارت ہوتی تھی۔ [1] ۲۳: پاک دامن مسلمان خاتون کی طرح اس کا نکاح کردو: عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: میری ایک بچی تھی زمانہ جاہلیت میں میں نے اس کو زندہ درگور کرنا چاہا تھا، لیکن مرنے سے پہلے ہم نے اسے قبر سے نکال لیا، پھر اس نے اسلام کی حقیقت سمجھ لی اور اسلام لے آئی، پھر حد نافذ کرنے والا جرم (زنا) کر گزری، اس نے چھری لی تاکہ خود کشی کرلے، ہم نے اس کو پکڑ لیا، حالانکہ وہ اپنی گردن کی رگیں کاٹ بھی چکی تھی، میں نے اس کا علاج کرایا اور وہ شفا یاب ہوگئی، پھر اس نے صدقِ دل سے توبہ بھی کرلی، اب اس نے ایک جگہ اپنی شادی کا پیغام دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ انہیں اس بچی کے ماضی سے آگاہ کردوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا جس چیز کو اللہ نے چھپایا ہے تم اسے ظاہر کرنا چاہتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر تم نے اس کے بارے میں کسی کو بتایا تو تمہیں ایسی سزا دوں گا جو پورے ملک والوں کے لیے عبرت ہوگی، جاؤ اور اس کا پاک دامن مسلمان خاتون کی طرح نکاح کردو۔ [2] ۲۴: ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور اسے میراث سے محروم کردیتا ہے: سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ غیلان ثقفی جب اسلام لائے تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے صرف چار کو منتخب کرلو اور باقی کو چھوڑ دو۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں انہوں نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی، اور اپنی جائداد بیٹوں میں تقسیم کردی۔ اس بات کی خبر عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی، آپ نے انہیں بلا بھیجا، وہ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے کہا: مجھے لگتا ہے کہ شیطان جو کچھ چوری سے ملأ اعلیٰ کی گفتگو سنتا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری موت کے بارے میں سن لیا ہے، اور پھر تمہارے دل میں یہ بات ڈال دی ہے کہ تم جلد ہی مرجاؤ گے، اس طرح اس کی سبقت بیانی نے تم کو اس کام پر مجبور کیا ہے۔ اور میں اللہ کی قسم! تمہارے بارے میں یہ سوچتا ہوں کہ میری اس جگہ سے تم اٹھ کر نہیں جاؤ گے کہ تمہاری موت ہوجائے گی اور اللہ کی قسم اپنی بیویوں کو لوٹانے اور بیٹوں میں تقسیم کردہ مال کو واپس لینے سے پہلے اگر تم مرگئے تو تمہاری بیویوں کو تمہاری جائداد میں حصہ دلاؤں گا، پھر تمہاری قبر پر پتھر برساؤں گا اور جس طرح ابورغال کی قبر کے ساتھ ہوا ہے اسی طرح تمہاری قبر کے ساتھ بھی کروں گا۔ چنانچہ اس نے اپنی بیویوں کو لوٹا لیا اور وہ مال بھی واپس لے لیا جو اپنے بیٹوں میں تقسیم کیا تھا، پھر تھوڑی دیر بعد ہی وفات پاگیا۔ [3] [1] إعلام الموقعین: ۱/ ۲۱۱۔ [2] إعلام الموقعین: ۱/ ۲۱۱۔ [3] الأموال، أبوعبیدہ ، ص: ۱۲۵، اثر نمبر: ۲۶۷۔ اولیات الفاروق، ص:۴۳۵۔