کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 483
۲۱: شراب نوشی کی حد اسّی (۸۰) کوڑے مقرر کرنا: جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالا اور اسلامی فتوحات کی کثرت ہوگئی، آبادیاں دور دور تک پھیل گئیں، لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر ہوگئی اور ایسے بہت سارے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا جو مکمل طریقے سے اسلامی تربیت اور دینی معلومات سے ناآشنا تھے، تو ان میں بہت زیادہ شراب نوشی ہونے لگی اور عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک بڑی پریشانی آکھڑی ہوئی۔ چنانچہ آپ نے بزرگ صحابہ کو اکٹھا کیا اور اس سلسلہ میں مشورہ لیا، سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کی سزا اسّی (۸۰) کوڑے بطور حد مقرر کی جائے، یہ حدود کی سب سے کم تر مقدار ہے۔ بہرحال آپ نے اسی پر عمل کیا اور آپ کی پوری مدت خلافت میں کسی صحابی نے اس کی مخالفت نہ کی۔ [1] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیّدناخالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے وبرہ الصلیتی کو شام سے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کیا۔ ان کا بیان ہے کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپ کے پاس طلحہ، زبیر بن عوام اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما مسجد میں ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں نے آپ سے کہا: خالد بن ولید نے آپ کو السلام علیکم عرض کیا ہے اور آپ کو خبر دی ہے کہ لوگ کثرت سے شراب نوشی کرنے لگے ہیں اور سزا کا مذاق اڑاتے ہیں، لہٰذا آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ سب تمہارے سامنے ہیں، (معاملہ پر غور وخوض ہو رہا ہے) وبرہ کا کہنا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خیال میں جب وہ نشہ سے بدمست ہوگا تو بکواس وبے ہودہ بکے گا، اور جب بے ہودگی بکے گا تو (دوسروں پر) تہمت لگائے گا، اور تہمت لگانے والے کی شرعی حد اسّی (۸۰) کوڑے ہے۔ یہ سن کر سب نے اسی پر اتفاق ظاہر کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے مشورہ سے تمہارا حاکم (یعنی میں) نتیجہ پر پہنچ گیا۔ پھر سیّدناعمر اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما نے بھی ایسے مجرموں کو (۸۰) کوڑے لگوائے۔ [2] ۲۲: شراب کی دکان نذرِ آتش کردینا: یحییٰ بن سعید بن عبید اللہ نافع سے روایت کرتے ہیں اور نافع ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کو قبیلۂ ثقیف کے ایک آدمی کے گھر میں کافی مقدار میں شراب ملی، تو آپ نے حکم دیا کہ اس گھر کو نذرِ آتش کردو، چنانچہ اسے جلا دیا گیا، مالک مکان کا نام ’’رویشد‘‘ تھا، آپ نے اس سے کہا: تم ’’ فویسق‘‘ ہو۔ [3] علامہ ابن جوزی کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ’’رویشد ثقفی‘‘ کا گھر نذر آتش کردیا، وہ نبیذ کے ایک تاجر تھے۔ اور علامہ ابن قیم نے فرمایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شراب کی دکان کو شراب کے ساتھ نذر آتش کردیا اور [1] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص:۱۵۳۔ المغنی: ۱۱/ ۴۰۵۔ [2] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۱۵۳۔ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند منقطع ہے، مصنف عبدالرزاق: ۱۰/۱۰۱ میں اس کی سند یوں ہے: ’’عن الثوری عن حماد بن ابراہیم اَنَّ رَجُلًا مُسْلِمًا قَتَلَ رَجُلًا مِنْ اَہْلِ الذِّمَّۃِ الْحِیْرَۃِ فَاَقَادَ مِنْہُ عُمَرُ۔ابراہیم اور عمر کے درمیان انقطاع ہے۔ ابراہیم نے عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ، اور اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ: ۶/ ۳۶۳ کی روایت میں مجہول العین راوی ہے: عن ابی نضرۃ قال حُدّثنا ان … [3] اولیات الفاروق، ص: ۲۶۴۔ کتاب وسنت کے خلاف ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لَا یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ ’’مسلم کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔‘‘ بخاری: ۶۹۱۵۔ (مترجم) [4] أ ولیات الفاروق، ص: ۲۶۶۔ [5] السنن الکبرٰی، البیہقی: ۸/ ۱۲۳، ۱۲۴۔ اولیات الفاروق، ص: ۴۶۶۔ [6] محض الصواب: ۱/ ۳۷۲۔