کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 482
۱۸: اپنی اولاد کے قاتل اور ذمی کے مسلمان قاتل کا کیا حکم ہے؟ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد کے قاتل کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دیت ادا کرے۔ [1]اور جو مسلمان کسی ذمی کو قتل کردے تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے، آپ کے دورِ خلافت میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا، شام میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کردیا تو آپ نے قصاص میں اسے قتل کروا دیا۔ [2] ۱۹: دیت اور قسامہ ایک ساتھ: قتل کے مقدمہ میں مقتول کے اولیاء یا مدعا علیہم کا اپنے ثبوت میں مکرر قسمیں کھانا ہی ’’قسامہ‘‘ کہلاتا ہے۔ [3] عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے شعبی سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی (یمن کے دو قبیلے) ’’وداعہ‘‘ اور ’’شاکر‘‘[4] کے درمیان مقتول پایا گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مقتول کے اولیاء کو حکم دیا کہ مقتول کی جگہ سے دونوں قبائل کی دوری کی پیمائش کریں۔ چنانچہ اسے ’’وداعہ‘‘ سے قریب پایا گیا۔ آپ نے ان سے پچاس قسمیں لیں، ہر آدمی نے حلفیہ بیان دیا کہ نہ تو میں نے اسے قتل کیا اور نہ اس کے قاتل کو جانتا ہوں۔ پھر آپ نے ان پر دیت کی ادائیگی کا جرمانہ قائم کیا۔ انہوں نے کہا: امیر المومنین! ہماری قسموں نے نہ تو ہمارا مال بچایا، اور نہ ہمارے مال نے ہمیں قسموں سے بچایا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہی صحیح فیصلہ ہے۔ [5] ۲۰: اے اللہ میں نہ حاضر تھا، نہ حکم دیا، نہ راضی ہوں اور نہ واقعہ سن کر خوش ہوں: جب فتح ’’ تُستر‘‘ کی خبر سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کو ملی تو آپ نے کہا: کیا کوئی نئی بات تو نہیں پیش آئی؟ لوگوں نے کہا: ہاں ایک بات ہوئی ہے، وہ یہ کہ ایک آدمی اسلام سے مرتد ہوگیا۔ آپ نے پوچھا: تم نے اس کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ انہوں نے کہا: ہم نے اسے قتل کردیا۔ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں تم نے اسے ایک گھر میں بند کردیا اور ہر روز اسے کھانے کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا دیتے، پھر اس سے توبہ کرواتے، اگر توبہ کرلیتا تو ٹھیک تھا، ورنہ اسے قتل کردیتے۔ پھر آپ نے کہا: اے اللہ میں اس واقعہ کے وقت حاضر نہ تھا، نہ اس کا حکم دیا، نہ راضی ہوں اور جب واقعہ سنا تو مجھے خوشی نہیں ہوئی۔[6] [1] صحیح البخاری، الدیات، حدیث نمبر: ۶۸۹۶۔ [2] المغنی، ابن قدامہ: ۱۱/ ۲۸۷۔ [3] اولویات الفاروق السیاسیۃ، ص: ۴۰۹۔ [4] اولویات الفاروق السیاسیۃ، ص: ۴۴۷۔