کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 481
سے مارا، آدمی کا کلیجہ پھٹ گیا پھر وہ مرگیا۔ وہ لونڈی بھاگ کر اپنے گھر والوں کے پاس آئی اور انہیں واقعہ کی خبر دی، اس کے گھر والے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور واقعہ سے خبردار کیا۔ آپ نے اپنے تفتیشی عملہ (جانچ کرنے والی ٹیم) کو واقعہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے بھیجا، وہ گئے تو دونوں کی لڑائی کے آثار ملے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ (کے دین) کے لیے قتل کرنے والے سے کبھی دیت نہیں لی جائے گی، اور آپ نے اس عزت کے لٹیرے ظالم کا خون مباح قرار دیا، نہ کوئی قصاص نافذ کیا، نہ دیت اور نہ کفارہ۔ ۱۶: اگر اس میں صنعاء کے تمام لوگ شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرتا: سیّدناابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بچہ بے خبری کی حالت میں قتل کردیا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اس میں ’’صنعاء‘‘ کے تمام لوگ شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کردیتا اور ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں نے مل کر ایک بچے کو قتل کردیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اس میں صنعاء کے تمام لوگ شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرتا۔ [1] اس واقعہ میں بھی عمر رضی اللہ عنہ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے بارے میں قرآن وسنت سے کوئی نص ثابت نہیں ہے اور نہ کوئی دور صدیقی کا واقعہ ایسا ملتا ہے جس میں ایسا فیصلہ ہوا ہو۔ بلکہ آپ نے فیصلہ مقاصد شریعت کو سامنے رکھ کر اپنی سمجھ سے صادر کیا، کیونکہ اسلامی شریعت کا مقصد یہ ہے کہ معاشرہ سے بدعنوانی دور رہے اور اس کے امن کی حفاظت واستحکام ہو۔ خون کا معاملہ آسان نہیں ہے، وہ بڑی دقت سے انصاف اور امت کی مصلحت چاہتا ہے۔ پس اس طرح کے واقعات میں اسلامی شریعت کا مقصد یہ ہے کہ اگر اس جرم میں متعدد لوگوں کی شرکت ثابت ہوجائے تو سب پر قصاص نافذ ہو، یہی جمہور علماء، ائمہ اربعہ، سعید بن مسیب، حسن، ابوسلمہ، عطاء، قتادہ، ثوری اور اوزاعی وغیرہم رحمہم اللہ کا مسلک ہے۔ [2] نیز یہی بات راجح اور سنت سے قریب تر ہے، کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ کے عمل اور اجماع صحابہ سے اس کی قوی دلیل موجود ہے اور معاشرہ میں انسانی جانوں کی حفاظت اور جرائم پیشہ افراد کو مجرمانہ کارروائیوں سے باز رہنے کی ایک حکیمانہ دھمکی بھی ہے۔ [3] ۱۷: جادوگر کی سزا قتل ہے: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آفیسروں کو یہ عمومی حکم نامہ بھیجا تھا کہ ہر جادوگر اور جادوگرنی کو قتل کردو۔[4]اور آپ نے یہ حکم نافذ کیا اور اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع تھا۔ [1] اولیات الفاروق، ص: ۴۱۴۔