کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 478
۷: حرمت زنا سے عدم واقفیت کا حکم: سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ایک افسر نے خط لکھ کر آپ کو مطلع کیا کہ ایک آدمی نے زنا کا اعتراف کیا ہے، اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً تحریر کیا کہ اس سے پوچھو کہ اسے زنا کی حرمت معلوم تھی، اگر ہاں کہتا ہے تو اس پر حد شرعی نافذ کرو اور اگر نہیں کہتا ہے تو اسے بتا دو کہ یہ فعل حرام ہے، او اگر پھر دوبارہ ایسا کرے تو اس پر حد نافذ کرو۔ [1] ۸: ایک عورت نے عدت میں شادی کرلی، اسے اور اس کے شوہر کو اس کی حرمت کا علم نہ تھا: ایک عورت نے اپنی عدت کے ایام میں نکاح کرلیا اور جب عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے عورت کی پٹائی کی، جو حد سے کم تھی۔ [2]اور شوہر کو بھی تعزیری طور پر کوڑے لگائے۔ [3] ۹: ایک خاوند کے ہوتے ہوئے منکوحہ نے خفیہ طریقے سے دوسرے آدمی سے شادی رچائی: عمر رضی اللہ عنہ نے ایسی عورت کو رجم کیا اور دوسرے شوہر کو سو کوڑے لگوائے اور اسے رجم نہیں کیا، کیونکہ اسے منکوحہ کے پہلے شوہر کا علم نہ تھا۔ [4] ۱۰: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ’’زنا‘‘ کے معاملہ میں متہم ہونا: چنانچہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے خلاف تین آدمیوں نے شہادت دی اور چوتھے نے انکار کردیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: شکر ہے اللہ ربّ العالمین کا کہ اس نے شیطان کو اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہنسنے کا موقع نہ دیا۔ [5] پھر آپ نے تینوں گواہوں پر تہمت کی حد نافذ کی کیونکہ تین کی شہادت سے اتہام زنا کی مطلوبہ شہادت پوری نہیں ہوتی۔[6] ۱۱: اس عورت کا حکم جس نے شادی کے لیے خود کو اپنے غلام کے حوالے کیا: ایک عورت نے اپنے غلام سے شادی کرلی، اس سے اس سلسلہ میں کہا گیا، اس نے جواب دیا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: { أوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } ’’یا جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔‘‘ [1] وہ حدیث اس طرح ہے: ’’ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَـلَاثَۃٍ۔‘‘ [2] الخلافۃ الراشدۃ، د/ یحییٰ الیحییٰ، ص: ۳۵۱۔ عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۱۴۸۔ [3] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۱۴۸۔ [4] الموطا: ۲/ ۸۲۷۔ المغنی: ۱۲/ ۲۱۷۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۲۵۴۸۔ [5] السنن الکبرٰی، البیہقی: ۸/ ۳۵۔ المغنی: ۱۲/ ۲۱۷۔ [6] السنن الکبرٰی، البیہقی: ۸/ ۲۳۶۔ المغنی: ۱۲/ ۲۱۸۔