کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 475
فرد متہم کے خلاف فیصلہ صادر کردے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام تحریر کیا تھا کہ ’’حاکم اپنی معلومات، گمان اور شبہ کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے۔‘‘ [1] اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہوگا اگر میں یہ کہوں کہ فلاں آدمی نے قتل کیا ہے، چوری کی ہے، یا زنا کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: تمام مسلمانوں کی طرح آپ کو بھی ایک گواہ شمار کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے بالکل صحیح کہا۔ [2] البتہ حدود وقصاص کے علاوہ دیگر معاملات میں کیا قاضی کی اپنی معلومات اس کے فیصلہ کے لیے ان حالات میں دلیل بن سکتی ہیں، جب کہ کوئی اور دلیل نہ ہو؟ تو اس سلسلے میں عمر رضی اللہ عنہ سے مختلف روایات وارد ہیں۔[3] معاملات میں اس قدر تحقیق وجستجو کے باوجود عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو ان کی غلطیوں کے اعتراف پر شاباشی دینے سے گریزاں اور اس بات کے لیے کوشاں رہتے تھے کہ وہ اپنے گناہوں کو چھپائے رکھیں اور اللہ سے توبہ کریں۔ چنانچہ شرحبیل بن سمط الکندی جب مدائن میں سرحدی افواج میں سے ایک گروہ کے ذمہ دار تھے تو خطبہ دیتے ہوئے کہا: ’’اے لوگو! تم ایسی زمین میں ہو جس میں شراب نوشی عام ہے اور عورتوں کی کثرت ہے۔ (یعنی شراب وشباب کا چلن ہے) لہٰذا تم میں سے جو حد نافذ کرنے والا جرم کر گزرے وہ ہمارے پاس آجایا کرے، تاکہ ہم اس پر حد قائم کردیں، اس میں اس کے لیے پاکی ہے۔‘‘ جب عمر رضی اللہ عنہ کو اس خطبہ کی خبر ملی تو آپ نے ان کو لکھا: ’’تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ لوگوں کو اللہ کی ردائے پردہ داری کو پھاڑنے کا حکم دو، جس سے اللہ نے ان کی پردہ پوشی کی ہے۔‘‘ [4] ہاں ضرور ہے کہ اگر لوگ اس کے جرم کو دیکھ لیں اور محکمہ قضاء تک وہ معاملہ پہنچا دیں تو بغیر کسی رواداری ومروّت کے اسلامی حکومت اس پر حد نافذ کرے گی۔ [5] آپ جب فریقین (مدعی ومدعا علیہ) کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا کرتے تھے: ’’اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ فیصلہ لینے کے لیے جب میرے سامنے فریقین ہوں گے تو میں کسی ایک کی طرف داری کروں گا … خواہ وہ میرا قریبی ہو یا کوئی دوسرا ہو … تو پلک جھپکنے تک کی مجھ کو مہلت نہ دے۔‘‘ [6] [1] تاریخ المدینۃ المنورۃ: ۲/ ۷۵۵۔ موسوعۃ فقہ عمر، ص: ۷۳۲۔ [2] موسوعۃ فقہ عمر، ص: ۷۳۳۔ [3] النظام القضائی، مناع القطان، ص: ۸۱، ۸۲۔ [4] موسوعۃ فقہ عمر، ص: ۷۳۵۔