کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 470
’’یہ عمر کی رائے ہے اگر صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے اور اگر غلط ہے تو عمر کی طرف سے۔‘‘ [1] ۳: علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو کہنے لگے: ’’مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ کسی صدیقی فیصلہ کو ردّ کردوں۔‘‘ [2] آپ نے اس بات کی مزید تاکید اس خط میں کی ہے جسے آپ نے قاضی شریح کے نام تحریر کیا تھا کہ: ’’ قرآن سے فیصلہ کرو، اگر اس میں نہ ملے تو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اگر اس میں بھی نہ ملے تو صحابہ کرام کے فیصلوں کی روشنی میں فیصلہ کیا کرو۔ ‘‘[3] ۴: اجماع: اگر درپیش معاملہ کے بارے میں قاضی قرآن وسنت کی کوئی نص نہ پاتے تو علماء کی طرف رجوع کرتے، صحابہ وفقہاء رحمہم اللہ سے مشورہ طلب کرتے، ان کے سامنے مسئلہ پیش کرتے اور سب لوگ اس کے بارے میں تحقیق اور اجتہاد کرتے۔ اگر سب لوگ کسی ایک رائے پر متفق ہوجاتے تو اسی کو اجماع کہا جاتا ہے۔ گویا امت محمدیہ کے کسی ایک دور کے مجتہدین کا کسی شرعی حکم پر متفق ہوجانا اصطلاح میں اجماع کہلاتا ہے۔ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اسلامی شریعت کا یہ تیسرا مصدر ہے، اور سب سے پہلے اس کا ظہور خلفائے راشدین کے عہد میں ہوا۔ فقہ، اصول فقہ اور تاریخ فقہ میں اس سلسلہ میں طول طویل بحثیں ہیں، لیکن جن معاملات ومسائل میں امت کا اجماع ثابت ہے وہ بہت کم ہیں۔ اس کے امکانات خلافت اسلامیہ کے دارالحکومت، صحابہ کرام، علماء اور فقہاء کے مجمع مدینہ نبویہ تک محدود تھے، دیگر ممالک وشہروں میں اس کا وجود بالکل شاذ ونادر تھا۔ [4] اجماع کے حجت ہونے کی دلیل یہ واقعہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی قوم کی زبان میں اخوان (دو بھائی) کا اطلاق اِخوۃ یعنی جمع (دو سے زیادہ برادران) پر نہیں ہوتا، پھر آپ اللہ کے فرمان﴿فَاِنْ کَانَ لَہٗٓ اِخْوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ(النساء:۱۱) ’’اگر مرنے والے کے بھائی ہوں تو ماں کو وراثت میں ایک تہائی ملے گا‘‘ کی وجہ سے ماں کو ثلث (تہائی) کی جگہ سدس (چھٹا حصہ) کیوں دیتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: مجھ سے پہلے جس فتوے پر شہروں میں عمل ہوتا چلا آرہا ہے اور لوگ اسی کے مطابق وراثت لیتے دیتے ہیں میں اس کو نہیں توڑ سکتا۔ گویا ابن عباس کی مخالفت سے پہلے ہی اس پر اجماع ہوچکا تھا، اس لیے ان کی مخالفت کا کوئی اعتبار نہیں کیا گیا۔ دراصل اجماع کے تین بنیادی ارکان ہوتے ہیں: [1] تاریخ القضاء فی الإسلام، د/ محمد الزحیلی، ص: ۱۱۸۔ [2] اعلام الموقعین: ۱/ ۲۲۴۔ تاریخ القضاء فی الإسلام، ص: ۱۱۹۔ [3] إعلام الموقعین: ۱/ ۵۷۔ تاریخ القضاء فی الإسلام، ص: ۱۲۰۔